تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 72
تاریخ احمدیت 72 جہاں مسلمان طلباء کی تعداد خاصی ہو وہاں مسلمان اساتذہ مقرر کئے جائیں تا کہ دینیات کے وقت میں یہ اساتذہ مسلمان بچوں کو اسلامی تعلیم سے روشناس کرائیں اور قرآن مجید پڑھا ئیں۔اسی تاریخ کو برادرم مسٹر عبدالواہاب بن آدم جو پاکستان سے آکرا پہنچے تھے سالٹ پانڈ میرے ہمراہ آئے۔کیونکہ انہوں نے جلد ہی اپنے وطن اشانٹی جانا تھا اور وقت اتنا تنگ تھا کہ احباب کا جمع کرنا مشکل تھا۔اس لئے بجائے ٹی پارٹی کرنے کے مجلس عاملہ کے ممبروں نے انہیں کچھ نقدی بطور ہدیہ دے دی۔18 اگست کو ٹیونس کے رہنے والے ایک معز ز عرب تشریف لائے ان کے ساتھ مشن ہاؤس میں دیر تک عربی میں گفتگو ہوتی رہی۔انہیں عربی میں احمدیت کے متعلق کافی لٹریچر دیا گیا۔26 اگست اگونہ سرکٹ میں OBADOM کے مقام پر ایک میٹنگ میں پبلک تقریر کی جو دو گھنٹہ تک جاری رہی۔ایک روز پبلک اجلاس مؤرخہ 2 ستمبر کو منگوائسی گاؤں میں کیا گیا۔مجمع اچھا خاصہ تھا وہاں بھی ڈیڑھ گھنٹہ تک بولنے کا موقعہ ملا 19 ستمبر کو غانا ایجوکیشن ٹرسٹ کی طرف سے پانڈ گرلز سیکنڈری سکول میں ایک میٹنگ میں شمولیت کے لئے گیا بہت سے معزز افریقن اور یورپین سے ملنے کا موقعہ ملا۔اس تقریب پر حکومت غانا کے بعض وزراء بھی آئے۔مورخہ 12 ستمبر کو مسٹر محمد آرتھر چیف ایگزیکٹو آفیسر نے اپنے نئے مکان کے افتتاح کے لئے خاکسار کو بلایا۔حاضرین میں سے کئی لوگ عیسائی اور مشرک بھی تھے موقعہ کو غنیمت سمجھتے ہوئے وہاں لیکچر دیا۔سہ ماہی زیر پورٹ میں خاکسار نے 13 گاؤں کا دورہ کیا۔708 میل سفر طے کیا۔اور نوے اشخاص کے ساتھ ملاقات کی۔مندرجہ بالا کاموں کے علاوہ جملہ امور انتظامیہ سرانجام دیئے قرآن مجید کا درس جاری رہا۔جملہ مدارس احمدیہ کی جنرل مینجری کے فرائض ادا کئے روازنہ خطوط آمدہ از وزارت تعلیم، ریجنل اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسران لوکل کونسلز ، دیگر محکمہ جات حکومت،اساتذہ سکولز ،احباب جماعت اور مبلغین کے جوابات دیئے گئے۔مولوی عطاء اللہ صاحب کلیم مبلغ اشانی تحریر کرتے ہیں انہوں نے قریشی محی الدین کے ساتھ ان مندوبین میں سے چیدہ چیدہ کو جو غانا جمہوریہ کے جشن پر آئے ہوئے تھے ملکر اسلامی کتب کے سیٹ پیش کئے ان میں سے وزیر سیرالیون وزیر اعظم کیمرون اقوام متحدہ میں سیلون کے مستقل نمائندے مفتی لبنان لائبیریا کی پارلیمنٹ کے ایک معزز رکن خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔علاوہ ازیں تربیتی دورہ کے ایام جلد 21