تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 646 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 646

تاریخ احمدیت 646 جلد 21 جائے گا۔اس پر وہ سخت حیران ہوئے اور اس حیرانی کے نمایاں آثار ان کے چہرے پر عیاں تھے۔موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس حقیر نے سلسلہ کلام جاری رکھا اور کہا کہ آپ فکر نہ کریں۔ہماری جماعت کسی ملک پر چڑھائی کا پروگرام نہیں رکھتی بلکہ دعاؤں پیار اور محبت سے آپ کے دلوں کو جیتنے کا پروگرام رکھتی ہے۔جو اللہ نے چاہا تو ضرور پورا ہوکر رہے گا۔میں نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہ کہ روس یا امریکہ کی حکومت جب کوئی دعوی کرتی ہے تو اپنی مادی طاقت، سائنسی ترقی یا جدید ٹیکنالوجی کی بناء پر کرتی ہے۔لیکن حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیان کی گمنام بستی میں پیدا ہوئے۔ہزاروں باتیں آپ کو اللہ تعالیٰ نے بتائیں۔اور لاکھوں لوگوں نے اس کی گواہی دی۔اب آپ بتائیں کہ اگر خدا تعالیٰ زندہ موجود نہیں ہے۔تو یہ تمام باتیں کیسے پوری ہو گئیں ؟ اس پر وہ کہنے لگے کہ میں اور تو کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن ہم آج بہت اچھے دوست بن گئے ہیں۔ازاں بعد ان کی خدمت میں قیمتی لٹریچر پیش کیا گیا جو انہوں نے بخوشی قبول کیا اور عاجز نے پھران سے درخواست کی کہ یہ پیشگوئیاں جو میں نے روس کے بارہ میں بیان کی ہیں میری طرف سے اپنی اولاد اور دوسرے لوگوں کو بھی پہنچادیں۔اس گفتگو کے بعد ان کی چائے سے خاطر تواضع کی گئی۔اسکے بعد وہ ہم سے الوداع ہوئے۔ان کی تنزانیہ سے روانگی کے چند ماہ بعد مجھے تنزانیہ میں روسی سفارتخانہ کی طرف سے ایک بڑے سائز کا قرآن کریم کا نسخہ بھجوایا گیا جس کے ساتھ ایک خط تھا جس میں لکھا تھا کہ روسی پروفیسر پوٹون نے انہیں ہدایت کی ہے کہ یہ قرآن کریم کا تحفہ مسٹر عنایت اللہ احمدی کو پہنچادیں۔اس وقت بھی وہ قرآن کریم کا نسخہ تنزانیہ احمد یہ مشن کے پاس موجود اور محفوظ ہے۔مجھے وہ قرآن کریم کا نسخہ وصول کر کے بے حد خوشی ہوئی۔خدا کا شکر ادا کیا۔لیکن حیرت اس بات پر ہوئی کہ اس نسخہ قرآن کریم پر کسی بھی جگہ یہ ذکر نہ تھا کہ کس پر لیں اور کس ملک میں شائع ہوا ہے۔اب کہاں سے مل سکتا ہے۔کیا ہدیہ ہے۔پرنٹ اور پبلشر کون لوگ ہیں اور نہ ہی معزز روسی لیڈر جناب پروفیسر پوٹو خن صاحب نے میرے ساتھ بلا واسطہ کوئی خط و کتابت کی۔یوگنڈا۔جنوری تا ستمبر 1 - مکرم حکیم محمد ابراہیم صاحب نے کمپالہ کے قریب ”سٹیا‘ مقام پر وسط جنوری 1962 ء کو احمد یہ نرسری سکول کا سنگ بنیاد رکھا۔سنگ بنیاد کی تقریب میں متعد د قوموں اور نسلوں کے قریباً دوصد