تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 644 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 644

تاریخ احمدیت 644 جلد 21 آزادی ضمیر تحریر و تقریر سلب کر کے اپنا کام چلا رہے ہیں۔لیکن ہمارا کام نفرت کو دور کرنا اور محبت کو پھیلانا ہے جو نسبتاً بہت مشکل کام ہے اور پھر ہمارا دین کسی کی آزادی ضمیر کو کچلنے کے لئے طاقت کے استعمال کی بھی اجازت نہیں دیتا۔عاجز نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے روسی پر و فیسر کو یقین دلایا کہ دین حق ہمارے دل میں دنیا کے ہر شخص اور قوم کیلئے محبت اور خیر خواہی کو جنم دیتا ہے۔لہذا ہمیں روسیوں سے بھی ویسی ہی محبت ہے جیسا کہ عربوں، عجمیوں ، افریقتوں ، امریکنوں ، انگریزوں، فرانسیسیوں ، چینی اور جاپانیوں وغیرہ کے ساتھ ہے اور یہ نعمت دین حق سے باہر کہیں نہیں ملتی۔ہستی باری تعالیٰ کے ثبوت میں یہ ناچیز انہیں جو دلیل قرآن مجید یا بائیبل سے دیتا تو وہ بڑی بے پرواہی اور بے رغبتی سے سننے سے انکار کر دیتے اور یہ کہتے کہ یہ پرانی کتابیں ہیں اور میں پرانے قصے سننے کے لئے تیار نہیں۔تب اس ناچیز نے حضرت اقدس بانی سلسلہ کے نشانات کا ذکر شروع کیا۔تو انہوں نے کہا کہ کیا مرز اغلام احمد زندہ ہیں میں نے عرض کیا کہ 1908ء میں وفات پاگئے ہیں۔لیکن ان کی اپنی تصانیف اور ان کے رفقاء موجود ہیں۔اس پر بھی انہوں نے یہی جواب دیا کہ یہ پرانی باتیں ہیں۔مجبوراً انہیں سمجھانے کے لئے بات کا پہلو بدلنا پڑا میں نے ان سے دریافت کیا کہ کیا وہ چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب اور مکرم شیخ امری عبیدی صاحب وزیر تنزانیہ کو جانتے ہیں اس کا انہوں نے اثبات میں جواب دیا۔چنانچہ میں نے ان کو دو ذاتی مندرجہ ذیل مشاہدات بتائے اور کہا کہ آپ خود خط لکھ کر ان دو بزرگوں سے تصدیق کروا سکتے ہیں۔میں نے انہیں بتایا کہ غالباً 1952ء میں جناب چوہدری ظفر اللہ خان صاحب جوان دنوں پاکستان کے وزیر خارجہ اور یو این او میں پاکستان کی طرف سے اسرائیل کے مقابلہ میں عربوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے وکالت کر رہے تھے۔عبورا میں اسی کرسی پر بیٹھے ہوئے اس ناچیز کے دل پر القاء ہوا کہ مکرم جناب چوہدری صاحب خطرہ میں ہیں۔ان کو اپنی حفاظت کا انتظام کرنا چاہیے۔اسی وقت میں نے ابروگرام پر اپنی زندگی میں پہلا خط مکرم چوہدری صاحب کو لکھ کر ان کی خدمت میں درخواست کی کہ وہ خطرہ میں ہیں اور خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ اپنی حفاظت کا انتظام فرمائیں۔خط لکھ کر پوسٹ کر دیا گیا۔میں امریکہ سے ہزاروں میل دور تھا۔مکرم چوہدری صاحب سے کسی قسم کا کوئی رابطہ نہ تھا اور میرا خط بھی ابھی چوہدری صاحب کے ہاتھوں میں نہ پہنچا تھا کہ انہیں امریکہ کے اندر سے لکھے ہوئے گمنام قتل کی