تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 583 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 583

تاریخ احمدیت 583 جلد 21 تھوڑی دیر بعد حضور مغربی کمرہ سے ننگے سر کھلی آستینوں والا ململ کا کرتہ ( جس کا گلا شانوں پر ہوتا ہے جو کہ دونوں طرف استعمال ہو سکتا ہے) پہنے ہوئے تشریف لائے۔میں نے دیکھا کہ حضور کا چہرہ مبارک نہایت نورانی اور سر اور داڑھی مبارک کے بال سرخ تھے اور ازار بند کے ساتھ ایک چابیوں کا گچھا لٹک رہا تھا۔میرے دل میں خفیف سا اعتراض پیدا ہوا کہ یہ علامت تو دنیا داروں والی ہے جو کہ روپے پیسے سے محبت کرتے ہیں مگر حضور تو خدا کے نبی ہیں۔ان کو ایسی باتوں سے کیا واسطہ خیر اسی وقت حضور نے ایک لڑکے کو فرمایا کہ چائے لاؤ۔اتنے میں حضور شاہ صاحب سے ضلع سیالکوٹ کے حالات دریافت کرتے رہے کیونکہ ان دنوں ضلع سیالکوٹ میں لوگوں نے ایک تحصیلدار کو کرائین کی وجہ سے مار دیا تھا اسپر حضور نے کچھ فرمانا شروع کیا اور میرے اس وسوسہ کا جواب حضور نے یوں دیا۔کہ بعض دفعہ لنگر خانہ کے اخراجات میں تنگی ہو جاتی ہے۔چونکہ عورتیں ناقص العقل ہیں اس واسطے میں لنگر کا انتظام اپنے ہاتھ میں رکھتا ہوں۔ان دنوں دفتر وغیرہ کوئی نہیں ہوتا تھا۔چنانچہ میرا وسوسہ اسی وقت دور ہو گیا اور میرے دل کے حالات سے حضور نے اطلاع پاکر مجھے جو جواب اپنی گفتگو میں دے دیا اس سے میری تشفی ہوگئی۔پھر حضور 1904ء میں سیالکوٹ تشریف لے گئے اور میں حضور کی خدمت کرتا رہا اور پھر میں جلسہ پر آتا رہا۔قادیان میں مستقل طور پر درزی خانہ کے لئے انجمن نے مجھے سیالکوٹ سے بلا بھیجا اور میں 1913 ء میں چلا آیا۔22 قادیان میں عرصہ تک آپ درزی خانہ کے انچارج رہے۔اس قومی ادارہ سے کئی نوجوانوں نے کام بھی سیکھا اور متفرق کلاس میں قرآن مجید، حدیث اور کتب حضرت مسیح موعود پڑھنے کی بھی توفیق پائی جس کا ذکر صدر انجمن احمد یہ قادیان کی مطبوعہ رپورٹوں میں موجود ہے۔رپورٹ 20-1919 ء میں درزی خانہ سے کام سیکھنے والے ابتدائی طلبا کی ایک فہرست درج ہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک طالبعلم نیروبی ( مشرقی افریقہ ) کے تھے۔جو فارغ ہونے کے بعد وہیں چلے گئے۔تقسیم ملک 1947 ء کے وقت آپ نے اپنے بڑے بیٹے مرزا عبداللطیف صاحب کو بطور درویش قادیان میں قیام کے لئے چھوڑا۔بعد ازاں کئی بار آپ پاکستان سے بڑی بے تابی اور اشتیاق سے دیار حبیب کی زیارت کے لئے تشریف لے جاتے رہے اسی جذبہ کے تحت 1961 ء کے جلسہ سالانہ قادیان میں شرکت کیلئے پہنچے مگر شدید بیمار ہو گئے۔قدرے افاقہ ہونے پر واپس آگئے اور فضل عمر ہسپتال میں