تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 572
تاریخ احمدیت 572 1962ء میں جلیل القدر رفقاء کا انتقال (فصل دوم) اس سال درج ذیل متعدد جلیل القدر رفقاء وفات پاگئے۔حضرت حکیم اللہ دتہ صاحب در گانوالی ضلع سیالکوٹ ولادت 1869 ء، بیعت 1898 ء، وفات 8 جنوری 1962 ء 192 جلد 21 آپ کے نواسے محترم ماسٹر محمد الدین صاحب انور سیکرٹری تحریک جدید وصدر حلقہ سٹیٹ لائٹ ٹاؤن سرگودھا تحریر فرماتے ہیں:۔آپ کے علم و فضل اور نیکی اور تقویٰ کے زیر اثر آپ کے بہت بڑے خاندان نے جن میں آپکے والد (حاکم دین صاحب) بھی شامل تھے احمدیت قبول کی۔آپ کے زیر اثر احمدیت قبول کرنے والے عزیزوں اور ان کی اولاد میں سے خدا تعالیٰ نے اکثر کو سلسلہ عالیہ احمدیہ کی خدمت کرنے کی سعادت عطا فرمائی اور ان سب میں سے بعض نے سلسلہ کی خاطر زندگیاں وقف کی ہوئی ہیں آپ کے دل میں سلسلہ کی خدمت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خاندان کے ساتھ انہیں والہانہ عشق تھا اور سلسلہ حقہ کے لئے بہت عزت رکھنے والے تھے۔بیعت کرنے کے بعد اصلاح و ارشاد میں بہت جوش و خروش سے مصروف رہے۔آپ کی کوشش سے نہ صرف آپ کے اعزہ واقربا نے احمدیت قبول کی بلکہ اردگرد کے علاقہ میں بھی احمدیت پھیلی۔ایک لمبے عرصہ تک آپ در گانوالی کے حلقہ کی جماعتوں کے امیر رہے اور جماعتی تربیت کے فرائض خوش اسلوبی اور باقاعدگی سے ادا کرتے رہے۔سلسلہ حلقہ سے وابستگی اور اس کی تبلیغ و اشاعت کے راستہ میں آپ کو بہت مخالفت اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑا جنہیں آپ صبر اور خندہ پیشانی سے برداشت کرتے رہے آپ ایک ماہر طبیب تھے۔اپنے پیشہ میں حصول معاش سے بڑھ کر خدمت خلق کا جذبہ کارفرما تھا۔آپ کی طبیعت بہت سادہ تھی۔نمود اور ریا آپ میں قطعا نہ تھی۔آپ کا سلوک اپنے دوستوں، عزیزوں اور اولاد کے ساتھ نہایت مشفقانہ خلوص و محبت کا تھا۔عبادت اور ذکر الہی سے بہت شغف تھا۔سلسلہ کی ترقی اور اپنے لواحقین کے لئے بڑے درد و کرب سے دعائیں کرتے تھے۔193-