تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 377 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 377

تاریخ احمدیت 377 جلد 21 میں اس طرح اسلام کے خلاف ناروا حملے کرنے کی بجائے با قاعدہ تقریری یا تحریری مناظرے کے ذریعہ اسلام کے خلاف اس سراسر غلط اور بے بنیاد الزام کو ثابت کریں ورنہ انھیں آئندہ اسلام کے خلاف اس قسم کی بے سروپا باتیں کرنے سے احتراز کرنا چاہئے۔آپ کا یہ چیلنج مشہور پندرہ روزہ انگریزی اخبار ایسٹ افریقن ٹائمنز میں 15 جولائی 1961 ء کو شائع ہوا اور اس کی وسیع پیمانے پر اشاعت ہوئی۔42 ازاں بعد بشپ نے اپنی ذلت کا داغ مٹانے کے لئے روز نامہ سواحیلی (MWAFRIKA) میں ایک آرٹیکل چھپوایا جس پر مولوی محمد منور صاحب فاضل بشپ صاحب کو میدان میں آکر مناظرہ کرنے کا کھلا چیلنج دیا چنانچہ اس سواحیلی روزنامہ نے 26 جون 1961ء کی اشاعت میں یہ چیلنج شائع کر کے لکھا کہ احمد یہ مشن نے آرچ بشپ صاحب کو اسلام اور عیسائیت کے موازنہ پر دعوت مباحثہ دی ہے اور للکارا ہے۔آرچ بشپ صاحب کو چاہئے کہ وہ مرد میدان بنیں اور تفرقہ انگیز بیانات سے گریز کریں۔مشرقی افریقہ کے مسلمانوں نے مولوی محمد منور صاحب کے اس بیان اور جرات ایمانی پر خوشی کا اظہار کیا۔اس چیلنج کے بعد بشپ صاحب بالکل ساکت وصامت ہو گئے اور ایک دفعہ پھر جاءالحق کا نظارہ سامنے آ گیا۔مبشرین اسلام کے دوران سال مختلف ذرائع و وسائل سے اسلام واحمدیت کی آواز کو ملک کے کونے کونے تک پہنچانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔دور حافظ محمد سلیمان صاحب، چوہدری عنایت اللہ صاحب، مولوی نورالحق صاحب انور، مولوی محمد منور صاحب نے تبلیغی سفروں کے ذریعہ بہت سے شہروں تک موثر انداز میں حق کی آواز پہنچائی۔اہم شخصیات سے رابطہ جن اہم شخصیتوں سے احمد یہ مشن کے مبلغین نے رابطہ کر کے ان تک اسلامی لٹریچر پہنچایا ان میں سے قابل ذکر یہ ہیں :۔چیف ہارون لگدشہ سابق ڈپٹی سپیکرٹانگا نیکا۔چیف ہومی زبونامبر لیجسلیٹو کونسل۔چیف عبداللہ سعیدی فنڈ یکرا وز یر قانون۔پالی بومانی وزیر زراعت پبلسٹی سیکرٹری نیشنل کانگریس مسٹر FEOMIDO۔وزیر اعظم ٹانگا نیکا، عہدیداران مسلم پولیٹیکل یونین، وزیر اعظم یوگنڈا، پروفیسر ڈاکٹر ارین پروفیسر انڈیانا یونیورسٹی، چیف ہارون کوسا مسٹر مگازی (MAGAZI)، عبد اللہ الناصر پیپل پارٹی۔افریقن لیڈر مسٹر موئی (MI)۔مسٹر نام بویا ( ایک مشہور سیاسی پارٹی کے سیکرٹری ) میئر صاحب نیروبی۔