تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 363 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 363

تاریخ احمدیت 363 جلد 21 یہ جماعت دنیا کے اور بہت سے حصوں میں بھی پھیل گئی ہے۔جہاں تک یورپ کا تعلق ہے لندن ، ہیمبرگ، فرانکفورٹ ، میڈرڈ ، زیورک اور سٹاک ہالم میں اب اس جماعت کے با قاعده مشن قائم ہیں۔امریکہ کے شہروں میں سے واشنگٹن ، لاس انجلیز ، نیو یارک ، پیٹسبرگ اور شکاگو میں بھی اس کی شاخیں موجود ہیں اس سے آگے گر نیا ڈا ، ٹری نیڈاڈ اور ڈچ گی آنا میں بھی یہ لوگ مصروف کار ہیں۔افریقی ممالک میں سے سیرالیون ، گھانا ، نائیجیریا، لائبیریا اور مشرقی افریقہ میں بھی انکی خاصی جمعیت ہے۔مشرق وسطی اور ایشیا میں سے مسقط ، دمشق، بیروت، ماریشس، برطانوی شمالی بور نیو، کولمبو، رنگون ، سنگا پور اور انڈونیشیا میں انکے تبلیغی مشن کام کر رہے ہیں۔دوسری عالمگیر جنگ سے قبل ہی قرآن کا دنیا کی سات مختلف زبانوں میں ترجمہ کا منصوبہ تیار کیا گیا تھا۔چنانچہ اب تک ڈچ ، جرمن اور انگریزی میں پورے قرآن مجید کے تراجم عربی متن کے ساتھ شائع ہو چکے ہیں۔اسی طرح عنقریب روسی ترجمہ بھی منظر عام پر آنے والا ہے۔اس جماعت کا نصب العین بہت بلند ہے یعنی یہ کہ روئے زمین پر بسنے والے تمام بنی نوعِ انسان کو ایک ہی مذہب کا پابند بنا کر انہیں باہم متحد کر دیا جائے۔وہ مذہب احمدیت یعنی حقیقی اسلام ہے۔اس کے ذریعہ یہ لوگ پوری انسانیت کو اسلامی اخوت کے رشتے میں منسلک کر کے دنیا میں حقیقی اور پائیدار امن قائم کرنا چاہتے ہیں۔انہیں توقع ہے کہ بالآخر تمام بنی نوع انسان اسلام کی آغوش میں آکر مسلمان ہو جائیں گے۔یہ جماعت خود اور اس کا اپنے مولد اور مسکن سے نکل کر پوری دنیا پر اس قدر مضبوطی سے پھیل جانا نوع انسان کی روحانی تاریخ کے عجیب وغریب واقعات میں سے ایک عجیب و غریب واقعہ اور نشان ہے۔تبلیغی دورے شیخ ناصر احمد صاحب نے آسٹریا کا دو دفعہ دورہ کر کے 7 لیکچروں کے ذریعہ پیغام حق پہنچایا۔آپکا پہلا دورہ اکتوبر کے شروع میں ہوا۔چنانچہ آپ نے 3۔14اکتوبر کو انز بروک یو نیورسٹی میں دو لیکچر دئے۔16اکتوبر کو سالزنگ میں اسلام اور کمیونزم کے موضوع پر تقریر کر کے سوالوں کے جواب دے۔اسی دن