تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 285
تاریخ احمدیت 285 اس میں اس قدر ترقی کر جاتے ہیں کہ مخالف کا بڑے سے بڑا عالم بھی ان سے بات کرے تو وہ شرمندہ ہو جاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ ان سے دینی مسائل پر بحث کرنا کوئی آسان کام نہیں۔میں ابھی جوان تھا مجھے ڈلہوزی میں ایک پادری سے گفتگو کرنے کا موقعہ ملا اور میں نے اس سے تثلیث اور کفارہ پر بحث کی۔جب وہ میرے سوالات کا جواب دینے سے عاجز آ گیا تو کہنے لگا کہ سوال تو ہر بے وقوف کر سکتا ہے مگر جواب دینے کے لئے عقلمند آدمی ہونا چاہیے۔میں نے کہا میں تو آپ کو منظمند سمجھ کر ہی آیا تھا۔غرض عیسائیت کا مقابلہ کرنا کوئی مشکل امر نہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ آپ لوگ اپنے فرائض کی ادائیگی کی طرف توجہ دیں اور لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کریں لیکن یہ یادرکھیں کہ دوسروں کے سامنے بات پیش کرنے کا طریق ایسا ہونا چاہیے جس سے محبت اور پیار ظاہر ہو اور اگر کوئی شخص اپنی ناسمجھی کی وجہ سے آپ کو برا بھلا بھی کہے تو مسکراتے چلے جاؤ اور نرمی اور انکسار اور حسن اخلاق سے کام لو اگر تم ایسا کرو گے تو خود بخود ان کے دلوں میں یہ احساس پیدا ہو گا کہ یہ تو بالکل اور قسم کے انسان ہیں۔ہم برا بھلا کہہ رہے ہیں اور یہ مسکرا رہے ہیں۔ہم سختی کر رہے ہیں اور یہ محبت اور پیار میں بڑھتے جا رہے ہیں۔تب وہ یہ سمجھنے پر مجبور ہوں گے کہ یہ لوگ زمینی نہیں بلکہ آسمانی ہیں اور وہ بھی تمھارے کندھوں کے ساتھ اپنا کندھا ملا کر اسلام کی خدمت اور محمد رسول اللہ اللہ کے نام کی بلندی کے لئے کفر کے مقابلہ میں کھڑے ہو جائیں گے۔پس اے میرے عزیزو! تم آسمانی آب حیات کی متلاشی اقوام کو محمد رسول اللہ ﷺ کے قدموں میں حوض کوثر پر لے جاؤ اور انہیں گندی زیست سے نجات دلانے اور ان کے اندر ایمان کی حرارت پیدا کرنے کے لئے کا فوری اور نجیلی جام پلاؤ اور اس سانپ کا سر ہمیشہ کے لئے کچل دو جس نے آدم کی ایڑی پر ڈ سا تھا اور اسے جنت ارضی سے نکال دیا تھا۔اس وقت ہماری جماعت میدان جہاد میں کام کر رہی ہے اور وہی فوج دشمن کا دلیری سے مقابلہ کر سکتی ہے جس کی صفوں میں انتشار نہ ہو قرآن کریم نے اس کی اہمیت پر بڑا زور دیا ہے اور بتایا ہے کہ مومنوں کی جماعت جب دشمنوں کے مقابلہ میں سینہ سپر ہوتی ہے تو اس کی کیفیت ”بنیان جلد 21