تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 128
تاریخ احمدیت 128 جلد 21 4 - رفیق احمد صاحب جاوید ( روانگی از ربا کی از ربوہ 26 جون 1977 ء۔واپسی 19 ستمبر 1981ء) حلقہ جارج ٹاؤن 5 نصیر احمد شاد چیمہ صاحب ( روانگی 22 فروری 1979 ء۔واپسی 3 جون 1980 ء ) ان مرکزی مبلغین کے ذکر کے بعد جو وسط آخر 1973 ء سے اگست 1982 ء تک مصروف جہاد رہے اس نو سالہ دور کے بعض ضروری واقعات کا ذکر کیا جاتا ہے۔حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کا خطاب حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب گیمبیا میں بھی رونق افروز ہوئے اور آپ نے 7 ستمبر 1973ء کو گیمبیا ہائی سکول کے ہال میں اسلام اور عدل“ کے موضوع پر پُر اثر خطاب فرمایا۔وزرائے مملکت ، اعلیٰ افسران ، چیف جسٹس ، علماء غرض کہ ہر طبقہ و حلقہ کے معززین کثیر تعداد میں شامل تھے۔دوران تقریر حاضرین پر محویت کا عالم طاری تھا۔تقریر کے بعد گیمبیا کے ایک بہت بڑے عالم الحاج عبد اللہ جوب نے آپ کی عالمی خدمات کو خراج تحسین ادا کیا اور کہا کہ مسلمانان عالم میں آپ ایک بے مثال شخصیت ہیں اور دنیائے اسلام کو آپ پر ناز ہے اور ہمیشہ آپ حق کے علمبر دار ہے ہیں۔حضرت خلیفتہ اسیح الثالث کے روح پرور پیغامات حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے روح پرور پیغامات زیب قرطاس کئے جاتے ہیں جو حضور نے جماعت احمد یہ گیمبیا کے نام ان کے پہلے آٹھ جلسوں کے لئے ارسال فرمائے اور جنہوں نے مخلصین جماعت میں زندگی کی نئی روح بھر دی اور جماعت کا قافلہ اس ملک میں بھی ترقی کی منازل طے کرنے لگا۔پہلا جلسہ سالانہ پہلا جلسہ مولوی داؤد احمد صاحب حنیف کے عہد امارت میں 28 تا 30 مارچ 1975ء میں انعقاد پذیر ہوا جس کی خبر بار بار ریڈیو پر نشر ہوئی۔خبر میں سیدنا حضرت خلیفۃ اسیح الثالث کے ایمان افروز پیغام کا خلاصہ بھی دوہرایا گیا جس سے سارا ملک گونج اٹھا۔دوسرا جلسہ سالانہ 16 - 17 اپریل 1976ء کو بنجول میں ہوا۔اس کے اختتامی خطاب کی صدارت وزیر خزانہ آنریبل الحاج گار با جاھمپا صاحب (JAHUMPA) نے کی جبکہ اختتامی اجلاس مولانا نسیم سیفی صاحب