تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 716
تاریخ احمدیت 716 جلد ۲۰ فصل سوم خدام الاحمدیہ اور لجنہ اماء اللہ سالانہ اجتماع مجلس انصار مرکزیہ سے کا میاب اجتماعات کے بعد مجلس انصار اللہ مرکز یہ کا چھٹا سا لا نہ اجتماع ۳۰٬۲۹٬۲۸ را کتوبر ۱۹۶۰ء کو انعقاد پذیر ہوا جو اپنی مثال آپ تھا۔اس اجتماع کا افتتاح قمر الانبیاء حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے پُر اثر اور پُر درد خطاب اور پُر سوز دعا سے کیا۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے فرمایا :۔انصار اللہ کے اجتماع کیلئے کسی پیغام کا انتخاب کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے کیونکہ یہ پیغام بصورت احسن انصار اللہ کے لفظ میں مرکوز ہے جس کے معنی خدائی خدمت گار کے ہیں۔قرآن مجید نے انصار اللہ کی اصطلاح اولاً حضرت مسیح ناصری کے مشن کے تعلق میں استعمال کی ہے۔جہاں یہ ذکر آتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے من انصاری الی اللہ کہہ کر اپنے حواریوں سے اپنے خدا داد مشن میں مددگار بننے کا مطالبہ کیا اور اس کے جواب میں حواریوں نے عرض کیا نحسن انصار الله یعنی اے خدا کے مسیح ہم خدا کے کام میں آپ کے معاون و مددگار بننے کا وعدہ کرتے ہیں۔اس کے بعد کی تاریخ سے ثابت ہے کہ گو بعض حواریوں سے کچھ کمزوریاں اور فروگزاشتیں بھی ہوئیں مگر انہوں نے بحیثیت مجموعی خدا کے رستہ میں تکلیفوں اور مصیبتوں اور صعوبتوں کو برداشت کرنے اور اپنی سمجھ اور طاقت کے مطابق حضرت مسیح ناصری کے پیغام کو دنیا تک پہنچانے میں بڑی جانفشانی اور بڑے صبر و استقلال اور قربانی سے کام لیا۔بلکہ وہ اپنے تبلیغی جوش میں اور بعض بعد میں آنے والے لوگوں کی غلط تشریحات کے نتیجہ میں حضرت مسیح ناصری کے منشاء سے بھی آگے نکل گئے۔کیونکہ گو مسیح کا مشن صرف بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں تک محدود تھا مگر مسیحی مشنری اس حد بندی کو تو ڑ کر دوسری قوموں تک بھی جا۔اور اس تجاوز میں خطر ناک ٹھو کر کھائی مگر اس کے مقابل پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مشن ساری قوموں اور سارے ملکوں اور سارے زمانوں تک وسیع ہے اور پھر محمدی نیابت کی وجہ سے آپ کا مقام بھی مسیح ناصری کی نسبت زیادہ بلند اور زیادہ ارفع ہے۔چنانچہ حضرت مسیح۔