تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 714
تاریخ احمدیت 714 جلد ۲۰ سکتا ہے اور جیسے کہ اوپر ذکر آچکا ہے یہ نیا رسالہ اس بنیادی مقصد کی تکمیل کیلئے جاری کیا گیا تھا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ماہنامہ ربع صدی سے نہایت خوبی اور مثالی رنگ میں بیش بہا علمی خدمات انجام دے رہا ہے۔اس رسالہ کی اہم خصوصیات یہ تھیں :۔اول۔سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود و مہدی مسعود علیہ السلام کے جد آفریں زندگی بخش اور روح پرور کلام ( نثر و نظم ) کا نہایت موزوں انتخاب مسحور کن عنوانوں کیسا تھ اس کی زینت ہوتا تھا۔یہی وہ معرفت کا لازوال خزانہ ہے جس کے نتیجہ میں قلوب کی آلائشیں دور ہوتی ہیں اور انسان اپنے اندر ایک پاک تبدیلی محسوس کرتا ہے۔دوم۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعدد قیمتی مکتوبات کے عکس اس میں ہمیشہ کیلئے محفوظ ہوئے۔یہ مکتوبات حضرت قاضی محمد عبد اللہ صاحب، حجۃ اللہ حضرت نواب محمد علی خاں صاحب، حضرت مولوی محمد دین صاحب، حضرت صوفی غلام محمد صاحب مبلغ ماریشس، غضنفر احمدیت حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب، حضرت سیٹھ غلام نبی صاحب هلمی، حضرت قاضی ظہور الدین صاحب اکمل رحمهم الله ، جیسے اکا بر رفقاء احمد کے نام ہیں اور بیش۔قیمت ارشادات پر مشتمل ہیں۔سوم۔مولانا عبدالرحمن صاحب انور کی مساعی سے متعدد بزرگ رفقاء کی غیر مطبوعہ روایات ریکاردڈ ہوئیں۔چہارم۔خلفا ء احمدیت کے ایمان افروز خطابات سپر دا شاعت ہوئے۔پنجم۔اس زمانہ میں جماعت احمد یہ جس شاندار طریق سے عالمی سطح پر تبلیغ دین حق کر رہی ہے اور اس کے انقلاب انگیز نتائج پیدا ہور ہے ہیں۔اس کا جائزہ ایک مبصر کی حیثیت سے لیا جاتا رہا اور غیروں کے اعتراضات کو اس میں خاص طور پر شامل اشاعت کیا گیا۔یہ رسالہ دین حق واحمدیت کی تاریخ ، صحابہ کی سیرت اور بہت سے تربیتی تبلیغی اور اصلاحی مضامین کے اعتبار سے ایک مختصر سے انسائیکلو پیڈیا کی حیثیت رکھتا ہے جسے سلسلہ کے بہت سے مقتدر بزرگوں اور دیگر مشہور اہل علم اصحاب کی علمی اور فکری کا وشوں کا نچوڑ کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا۔نومبر ۱۹۶۰ء سے دسمبر ۱۹۸۴ء تک جن مشہور و ممتاز اہل قلم نے اپنے رشحات قلم سے اس رسالہ کو مزین کیا ان کے نام یہ ہیں۔