تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 565
تاریخ احمدیت - 565 جلد ۲۰ نمایاں جگہ دی ہے تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اسے پڑھ سکیں۔اور اس پر غور کر سکیں۔ہم نے خود سے نہایت غور سے پڑھا ہے اور ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ نائیجیریا میں احمد یہ مشن کے لیڈر مسٹر سیفی ہر حال میں اس بات کے فیصلہ کے لئے مناظرہ کرنا چاہتے ہیں کہ ان دونوں مذاہب (اسلام اور عیسائیت ) میں سے کون سا مذ ہب دوسرے سے بہتر ہے۔ہم نہیں سمجھتے کہ ایسے مناظرہ سے لوگوں کے تعلقات خوشگوار ہوسکیں گے۔یہ بات غیر صحت مندانہ ہے کیونکہ اس کے نتیجہ میں ایک ختم نہ ہونے والی اور بدمزہ بحث چھڑ جائے گی۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بات اتنی ہی بُری ہے جتنی کہ ایک ایسی بحث جس کا مقصد یہ ہو کہ یہ ثابت کیا جائے کہ یوربا (YORUBA) اور ابو (IBO) میں سے کونسا قبیلہ اچھا ہے یا ھاؤسا (HAUSA) اور ابو (180) میں سے کس قبیلہ کو دوسرے پر فوقیت حاصل ہے۔اس سے بھی زیادہ خطر ناک بات یہ ہے کہ احمدی لیڈر نے بھی گرا ہم کی آمد سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ان کی آمد ایسے وقت میں رکھی گئی ہے جب کہ مسلمانوں کو سیاسی اقتدار حاصل ہوا ہے اور الحاج ابو بکر تا فاوا با لیوا پرائم منسٹر بن گئے ہیں۔یہ بات نہایت ہی خطر ناک ہے اور اس سے عیسائیوں کے دلوں پر ایک کاری زخم لگا ہے۔نہ صرف نائیجیریا کے عیسائیوں کے دلوں پر بلکہ ساری دنیا کے عیسائیوں کے دلوں پر زخم لگا ہے۔ہم مذہبی اختلافات کے بارے میں اپنا موقف دوبارہ پیش کر دینا چاہتے ہیں۔نائیجیر یا ایک ایسا خوش قسمت ملک ہے جہاں لوگوں کے مذہبی اختلافات ان کی زندگی پر کوئی اثر نہیں ڈالتے۔ہم ایک ایسے ملک کی تعمیر کر رہے جہاں مذہبی اختلافات لوگوں کے آپس کے تعلقات پر ہر گز اثر انداز نہ ہوں گے۔ہمارا یقین ہے کہ تمام نائیجیرین چاہے وہ کس ہی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں باہم مل کر کام کر سکتے ہیں۔اور یہی وجہ ہے کہ ہم ہر اس شخص یا اس گروہ کی مخالفت کرتے ہیں جو کہ مذہبی آگ کو ہوا دے۔ہم نے دیگر ممالک میں ان باتوں کے بُرے نتیجے نکلتے دیکھے ہیں۔“ (NORTERN STAR) ایک اور اخبار نائیجیرین ٹربیون (NIGERIAN TRIBUNE) نے اپنے 9 فروری کے شمارے میں مندرجہ ذیل ایڈیٹوریل لکھا :۔" غصہ دلانے والی حرکات وو 6 دوسرے ممالک کی طرح نائیجیر یا بھی بعض مشکلات سے دو چار ہے لیکن برعکس دوسرے ممالک کے یہاں کی مشکلات بہت زیادہ ہیں اور بہت پیچیدہ ہیں، اقتصادی مشکلات