تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 553
تاریخ احمدیت 553 جلد ۲۰ خدا تعالیٰ آپ کو ایمان عطا فرمائے اور دین و دنیا میں ایمان بخشے۔میں بیمار اور بوڑھا ہوں مگر آپ کے لئے دعاؤں میں مشغول ہوں۔آپ میرے ماں کی طرف سے اور باپ کی طرف سے کوئی رشتہ دار نہیں مگر مجھے آپ سے ایسی محبت ہے جیسی اپنے عزیزوں سے۔میں آپ کے لئے دعا کرتا ہوں خدا تعالیٰ آپ کو دین و دنیا میں نوازے اور ایمان عطا فرمائے۔اگر آپ ایمان لے آئے تو آپ کا مقام ثریا سے بلند ہوگا۔مجھے یقین ہے کہ خدا کے فضل سے قادیان کا رستہ جلد کھل جائے گا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مرکز ہے۔وہ لوگ جو ایمان اس وقت تک لاچکے ہوں گے ان پر اس کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں گی اور وہ جو بعد میں ایمان لانے کی کوشش کریں گے ان کو یہ مقام حاصل نہیں ہوگا۔امتحان لینا خدا کا کام ہے آپ کا کام نہیں۔پس آپ خدا کا امتحان نہ لیں کہ یہ سخت محرومی کا رستہ ہے۔شکر کریں تا کہ خدا تعالیٰ آپ کو کامیاب کر دے۔میں دعا کرتا ہوں خدا آپ کو جلد ایمان لانے کی توفیق دے۔آپ کے رکے رہنے سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت میں فرق نہیں پڑے گا بلکہ آپ کی اپنی ہی بدنصیبی ہوگی۔خدا آپ کی مدد کرے۔آپ کو ابتلاؤں اور ٹھوکروں سے بچائے اور میں اپنی زندگی میں دیکھ لوں کہ آپ کو ایمان عطا ہو گیا۔خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے قل ان کنتم تحبون الله فاتبعوني يحببكم الله۔آپ منہ سے محبوب سبحانی کرتے ہیں مگر تعجب ہے کہ ایک نہر آپ کے سامنے رواں دواں ہے اور آپ اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔آپ خود ہی اس سے فیض اٹھا کر محبوب سبحانی بن سکتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر موسیٰ اور عیسی علیہما السلام زندہ ہوتے تو ان کو بھی میری اتباع کے بغیر چارہ نہ تھا۔اپنے آپ کو خواہ مخواہ حقیر نہ سمجھو، خدا نے آپ کو بڑا بنایا ہے حقیر نہیں بنایا۔جلد آؤ کہ میرا خدا آپ کا انتظار کر رہا ہے، آپ کے لئے زمین اور آسمان اپنے خزانے اگلنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔آپ اگر اس سے فائدہ نہ اٹھائیں گے تو اس میں آپ کی اپنی ہی محرومی ہے۔خدا آپ کے ساتھ ہو۔آمین۔مرزا محمود احمد امام جماعت احمد یہ ربوہ 229۔12۔1959