تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 447 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 447

تاریخ احمدیت 447 جلد ۲۰ فصل دوم دیگر ممتاز خدام دین کا ذکر خیر ( وفات یافته ۱۹۵۹ء) ۱- الحاج حضرت خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب سابق مجاہد انگلستان و ناظر بیت المال ( وفات ۹ر جون ۱۹۵۹ء ) ۲۰ اکتوبر ۱۸۷۶ء کو صریح ضلع جالندھر میں پیدا ہوئے اور انٹرنس پاس کر کے انسپکٹر جنرل آف آرڈینینس کے مرکزی دفتر میں ملازم ہو گئے۔فروری ۱۹۰۷ء میں ہیڈ کلرک ہوئے۔آپ دورانِ ملازمت کلکتہ، شملہ، فیروز پور اور راولپنڈی میں تعینات رہے اور ہر جگہ سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کے جائز حقوق دلانے کی سر توڑ کوشش میں مصروف رہے اور بہت سے مسلمانوں کو ملازمتیں دلانے میں کامیاب ہو گئے۔چونکہ آپ کے ذریعہ بھرتی ہونے والے مسلمان اپنی لیاقت اور محنت کے باعث اپنی جگہ پر مستحکم ہو جاتے تھے اس لئے جو شخص ایک دفعہ ٹک جاتا تھا اسے مستقل جگہ مل جاتی تھی۔متعصب غیر مسلم عمر بھر آپ کے خلاف بار بار شکایات کرتے رہے کہ یہ شخص مسلمانوں کی بے جا طرف داری کرتا ہے لیکن تحقیق کے بعد یہی ثابت ہوتا کہ ایسی شکایات محض تعصب کی بناء پر کی گئی ہیں اور بے بنیاد ہیں۔۱۹۰۲ء سے ۱۹۰۷ ء تک آپ نے راولپنڈی میں انجمن حمایت اسلام لاہور کے لئے چندہ کی فراہمی کے لئے شاندار خدمات سرانجام دیں اور آپ کی جدوجہد سے مقامی ممبروں کی تعداد قریباً ڈھائی سو تک پہنچ گئی۔دسمبر ۱۹۰۸ء میں پہلی بار جلسہ سالانہ کے دوران قادیان تشریف لے گئے۔اور سیدنا حضرت خلیفہ اصبح الاول مولانا نورالدین صاحب کی تقریر سے ایسے متاثر ہوئے کہ فیروز پور میں آکر مسلمانوں کی مشتر کہ فلاح و بہبود کے لئے کام کرنا شروع کر دیا اور متمول مسلمانوں سے چندہ جمع کر کے غریب اور مستحق مسلمان طلبہ کو کتابوں کے خرید نے اور دوسری ضروریات کے لئے وظیفے دینے کی پر جوش تحریک کی جو بہت مقبول ہوئی۔آپ ہی کو اس کا سیکرٹری بنا دیا گیا۔اور تھوڑے ہی عرصہ میں خاص رقم