تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 337 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 337

تاریخ احمدیت 337 کریں گے اور تبلیغ کے فریضہ کو ادا کرتے رہیں گے یہاں تک کہ دین ساری دنیا پر غالب آ جائے۔اگر لینن کے متبعین نے چند سال میں ساری دنیا پر اپنا سکہ جما لیا تھا تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین یہ کام کیوں نہیں کر سکتے۔صرف عزم اور ارادہ کی پختگی کی ضرورت ہے۔خدا تعالیٰ ان کا حامی و ناصر ہو۔وہ کبھی ظلم نہ کریں اور ہمیشہ خدا تعالیٰ کے بندوں کے سامنے عجز وانکسار کے ساتھ سر جھکا ئیں تا کہ خدا تعالیٰ اور اس کے بندوں کی مددان کو ملتی رہے اور دین کا سر ہمیشہ اونچا رہے اور قیامت کے دن خدا کا آخری نبی بلکہ خدائے واحد خود نہایت شوق سے اپنے ہاتھ پھیلا کر ان کی ملاقات کے لئے آگے بڑھے اور وہ ہمیشہ ہمیش کے لئے خدا تعالیٰ کی برکات کے وارث ہوں۔میں احمدیت اور اس کے آثار کو بھی خدا کے سپرد کرتا ہوں وہی ان کا بھی محافظ ہو اور ان کی عزت کو قیامت تک قائم رکھے۔آمین۔ثم آمین اے دوستوں! میری آخری نصیحت یہ ہے کہ سب برکتیں خلافت میں ہیں۔نبوت ایک بیج ہوتی ہے جس کے بعد خلافت اس کی تاثیر کو دنیا میں پھیلا دیتی ہے۔تم خلافت حقہ کو مضبوطی سے پکڑو اور اس کی برکات سے دنیا کو متمتع کرو تا خدا تعالیٰ تم پر رحم کرے اور تم کو اس دنیا میں بھی اونچا کرے اور اس جہان میں بھی اونچا کرے۔تا مرگ اپنے اپنے وعدوں کو پورا کرتے رہو۔اور میری اولاد اور حضرت مسیح موعود کی اولاد کو بھی ان کے خاندان کے عہد یا د دلاتے رہو۔احمدیت کے مبلغ دین کے نیچے سپاہی ثابت ہوں اور اس دنیا میں خدائے قدوس کے کارندے بنیں۔کیا ہمارا خدا اتنی طاقت بھی نہیں رکھتا جتنا کہ حضرت مسیح ناصری رکھتے تھے۔مسیح ناصری تو ایک نبی تھے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام نبیوں کے سردار تھے خدا تعالیٰ ان کی سرداری کو دونوں جہاں میں قائم رکھے اور ان کے ماننے والوں کا جھنڈا کبھی نیچا نہ ہو اور وہ اور ان کے دوست ہمیشہ سر بلند رہیں۔آمین ثم آمین میں یہ نصیحتیں پاکستان سے باہر کے احمدیوں کو بھی کرتا ہوں وہ بھی خدا تعالیٰ کے ایسے ہی محبوب ہیں جیسے پاکستان میں رہنے والے احمدی۔اور جلد ۲۰