تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 306
306 جلد ۲۰ تاریخ احمدیت ا۔سکھ مسلم اتحاد کے سلسلہ میں اب تک جس قدر کوششیں کی گئی ہیں ان میں بہترین کوشش اس کتاب کی شکل میں ہمارے سامنے آئی ہے۔بلا مبالغہ کہا جاسکتا ہے کہ آج تک سکھ مسلم تعلقات کے سلسلہ میں اس سے بہتر کوئی کتاب نہیں لکھی گئی۔“ (روز نامہ الجمعیۃ دہلی ۷ دسمبر ۱۹۵۸ء بحواله بدر ۱۸؍ دسمبر ۱۹۵۸ء صفحه۱) ۲- احمد یہ جماعت قادیان نے وقت کی ایک اہم ضرورت کو پورا کیا ہے۔“ (روز نامہ ساتھی پینه ۱۳/دسمبر ۱۹۵۸ء بحوالہ بدر ۲۵ / دسمبر ۱۹۵۸ء صفحه۱) - ۲۱۱ ۲۱۲۔اس کتاب میں نہایت مدلل اور مفصل طریقے سے یہ دکھایا گیا ہے کہ سکھوں کی جماعت جو ایک موحد جماعت ہے مسلمانوں سے کس قدر قریب ہے۔۔۔اس کتاب نے رواداری اور دوستی کی جو فضا پیدا کی ہے وہ نہایت لائق تحسین ہے۔ہفت روزہ ” ہماری زبان، علی گڑھ ۲۲ / دسمبر ۱۹۵۸ء بحوالہ بدر قادیان یکم جنوری ۱۹۵۹ ، صفحه ۸) ہفتہ روزہ اخبار ”ہماری زبان، علی گڑھ ( ۲۲ / دسمبر ۱۹۵۸ء) نے اس کتاب پر یہ تبصرہ کیا یہ حقیقت ہے کہ جو تبلیغی جوش اور سرگرمی احمدیوں میں پائی جاتی ہے وہ دوسرے اسلامی فرقوں میں نہیں ہے موجودہ زمانے میں احمدی جماعت نے منتظم تبلیغ کی جو مثال قائم کی ہے وہ حیرت انگیز ہے۔اس کتاب سے جماعت مذکورہ کی تبلیغی مساعی کا اندازہ ہو سکتا ہے۔( بحوالہ بدر قادیان یکم جنوری ۱۹۵۹ء صفحه ۸) مولوی ارجمند خان صاحب لیکچرار تعلیم الاسلام کا لج ربوہ کی رائے : " ترجمہ ایسا شگفتہ، آسان اور سلیس اردو میں کیا گیا ہے که خود ایک مستقل تالیف کی شکل اختیار کر گیا ہے۔فاضل مترجم نے جستہ جستہ مقامات پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فتاوی سلسلہ احمدیہ کے لٹریچر اور دارالقضاء کے فیصلوں کی روشنی میں جماعت احمدیہ کے مسلک کی تعیین بھی کر دی ہے۔مشکل اور بار یک مسائل کی تشریح کے لئے مفید حواشی کا اضافہ کیا گیا ہے۔آیات واحادیث کے تراجم اور حوالے بھی درج کئے ہیں۔اس کی تمام اشاعت کی گئی تو معاشرہ بہت سی الجھنوں اور پیچیدگیوں سے محفوظ ہو جائے گا۔‘ ( الفضل ۲۹ مارچ ۱۹۵۸ء صفحه ۵) -۲۱۳ حضرت مصلح موعود نے مجلس مشاورت ۱۹۵۸ء کے دوران کفارہ کی حقیقت" ، "احمدیت کا مستقبل“، ”ہماری تعلیم“ اور جماعت اسلامی پر تبصرہ کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا " یہ ایسی کتابیں ہیں جو مفید ہیں اور اس قیمت پر سارے پاکستان بلکہ سارے ہندوستان میں بھی نہیں مل سکتیں۔“ ( رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۵۸ءصفحہ ۳۰)