تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 274 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 274

تاریخ احمدیت ذکر ہیں۔274 جلد ۲۰ سوئٹزرلینڈ کے ایک عیسائی طالب علم مسٹر والٹر ہمرمان نے احمد یہ مشن کی قابل قدر دینی مساعی سے متاثر ہو کر اسلام کے متعلق ایک مفصل مضمون سپر د قلم کیا جس میں بڑی تفصیل سے اس حقیقت پر روشنی ڈالی کہ پادریوں نے مغربی ممالک میں اسلام کو سراسر غلط رنگ میں پیش کیا ہے۔نیز بتایا کہ مستقبل میں اسلام عیسائیت کے ہر پہلو پر غالب آکر رہے گا۔انسانوں کی خوش قسمتی اس میں ہے کہ دنیا میں ایک ہی مذہب ہو یعنی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کا لایا ہوا دین۔مسٹر والٹر نے مضمون کے آخر میں یہ تجاویز پیش کیں کہ : ہالینڈ سوئٹزرلینڈ میں مزید مشن کھولے جانے چاہئیں۔مزید اجلاس منعقد کئے جانے چاہئیں۔تا کہ اسلام قدم جمائے اور دلوں کو فتح کر سکے۔اسلامی تعلیم پر مشتمل کتب اور رسالے کم قیمت پر میسر تو آتے ہیں تاہم ان کی اشاعت اور زیادہ کی جانی چاہئے اگر جماعت احمدیہ کا ہر فرد تبلیغ کر ہے تو اسلام سوئٹزرلینڈ میں قدم جما سکتا ہے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ابتدائی مشکلات بہت سخت ہیں بالخصوص ایک ایسے ملک میں جہاں غلط پراپیگنڈا کا زور ہوتا ہم جو نہی عوام میں سے بعض لوگ اسلام کی عظمت کا علم حاصل کر لیں گے اور پھر اسے دوسروں تک پھیلائیں گے تو کامیابی بھی جلد آجائے گی۔(ترجمہ) حکومتِ پاکستان کی طرف سے پنجاب یونیورسٹی کے زیر انتظام ۳۱ / دسمبر ۱۹۵۷ء سے ۸/ جنوری ۱۹۵۸ء تک ایک بین الاقوامی اسلامی مجلس مذاکرہ منعقد ہوئی۔جس میں برطانیہ، ہالینڈ ، امریکہ، روس، چین، مصر، شام، افغانستان وغیرہ میں ممالک کے ۱۲۵ مسلم و غیر مسلم مندوب شامل ہوئے اور مختلف اہم موضوعات پر نوے مقالے پڑھے۔ہالینڈ کے جو تین مستشرقین شریک مذاکرہ ہوئے ان میں لائیڈن یونیورسٹی میں اسلامیات کے پروفیسر ڈاکٹر در یوس (DREWES) بھی تھے جنہوں نے نہ صرف اپنے پر از معلومات مقالہ سے سامعین کو محظوظ فرمایا بلکہ اپنی دیرینہ خواہش کے مطابق سلسلہ احمدیہ کے مرکز ربوہ میں تشریف لے گئے اور حضرت مصلح موعود سے شرف ملاقات حاصل کیا۔اور واپسی پر حافظ قدرت اللہ صاحب انچارج ہالینڈ مشن کی فرمائش پر ۲۸ مئی ۱۹۵۸ء کو بیت الذکر ہیگ میں ایک خصوصی لیکچر دیا۔اس موقع پر حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب بھی تشریف فرما تھے اور آپ نے اس لیکچر سے قبل عمدہ الفاظ میں ان کا تعارف کرایا۔پروفیسر ڈاکٹر دریوس نے اپنے لیکچر کے آغاز میں مغربی اور مشرقی پاکستان کے مفصل ۱۸۹