تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 695 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 695

گفتگو کرنے کو تیار ہی نہ مناظرہ طے کرنے کے لیے۔پادری صاحبان اس اعلان کے بعد چکوال میں مختصر سا قیام کر کے جہلم بھاگ آئے لئے آپ کے بڑے صافہزاد سے ملک عبدالباسط صاحب کا بیان ہے کہ :- آپ دور دور جاکر احمدیت کے مخالفین سے مناظرے کرتے تھے اور بڑے فخر سے فرماتے تھے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے مجھے کبھی بھی شکست نہ ہوئی تھی بلکہ میں ہمیشہ ہی سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیز کی خدمت میں کامیاب وکامران ہی واپس آتا تھا اور شاید یہی وجہ تھی کہ ھو کئی مناظروں کے لیے مجھے منتخب فرماتے تھے۔آپ فرماتے تھے کہ اکثر مخالف مناظر مجھے دیکھ کر ہنس پڑتے تھے۔کہ اس کل کے بچے نے ہمارے ساتھ کیا مناظرہ کرنا ہے لیکن انہیں یہ نہیں معلوم تھا کہ بچہ اکیلا ہی نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ احمدیت کی صداقت تمام احمدی جماعت اور خصوصاً حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی دعاؤں کی عظیم اور بے پناہ طاقت ہے۔۱۹۳ء میں پہلی دفعہ آپ نے بطور نمائندہ مشاورت میں شرکت کی۔۱۹۳۶ میں آپ نے لاء کالج سے قانون کا امتحان پاس کیا۔اسی سال جلسہ سالانہ قادیان کے مقدس سٹیج سے ۱۲۸ دسمبر ۱۹۳۶ ء کو آپ کی پہلی بار۔تقریر مولی عنوان تھا وابستگان خلافت کی منکرین خلافت پر فضیلت۔۱۹۳۷ ء میں آپ نے گجرات میں پرکشش کا آغازہ کیا۔اس سال ستمبر کو آپ کا نکاح حضرت خلیفہ اسی الثانی نے محترمہ زمانی بیگم صاحب عرت سوزی ار دختر خان بی اور آصفت، زمان خان یا کٹر پیلی بھیت سے دس ہزار مہ پر پڑھا لیے ۱۹۳۸ء میں آپ کے ہاتھوں گجرات شہرمیں متعلقہ ادب کی بنیاد رکھی گئی میں کے صدر آپ تھے یے ۱۹۳۹ء میں آپ نے مجلس مشاورت میں سرگرم حصہ لینا شروع کیا۔چنانچہ اس سال کی مشاورت میں آپ نظارت علیا کی سب کمیٹی کے مبر نامزد کیسے گئے۔صدر کمیٹی چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب تھے۔اس مشاورت کے دوران آپ نے جلسہ جوبلی کے پروگرام کی بحث میں بھی حصہ لیا اور حضرت مصلح موعودہ کے حضور نہایت عمدگی سے اپنا نقطہ نگاہ پیش کیا یہ ره " اخبار فاروق، تاریان (۱۲۸ اگست ۱۹۳۲ء منا ۱۳ به به الفرقان قادم نمبر جنوری ۱۹۵۹ء مت له الفضل دسمبر ۱۹۳۶ ء نه که اولاد - تک عبد الباسط صاحب - ملک عبد الماجد صاحب انتہ الحکیم صاحبہ - امتد الجبیل مصاحبه ه " یکم ش - پیام ، گجرات یکم ستمبر ۱۹۵۷ و بہ سے رپو رٹے فیس مشاورت ۱۹۳۹ ء مجلس