تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 674 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 674

709 جواب دیتے تھے۔حضرت نواب محمد علی خانصاحب کے سوائخ کے تعلیق میں اس امر کا تجربہ ہوا کہ آپ کا حافظہ بے مثل تھا۔نہایت مفید مشورے آپ دیتے تھے۔اگر میں وہ حاصل نہ کر سکتا تو بے شمار اغلاط شائع کرنیکا موحیب ہوتا۔آپ نئی پود کی حوصلہ افزائی کے لیے ہر وقت تیار رہتے تھے۔آپ نے از خود مجھے توجہ دلائی کہ مسودہ آپ کو دکھلاؤں۔میں آپ کی ہمت کی پوری راد نہیں دے سکتا بعض رفعہ ڈیڑھ دو صد صفحات کا مسودہ میں نے ارسال کیا۔اور آپ نے ایک ہی رات میں نہایت توجہ سے پڑھ کہ بیش قیمت نوٹ لکھ کر اور تصحیحات کر کے واپس کر دیا۔آپ اپنی تصانیف کے باعث مالی پریشانیوں سے ہمیشہ دوچار رہے۔لیکن آپ نے ان کی پر واہ نہ کرتے ہوئے اپنے کام کو عمر بھر جاری رکھا۔آپ نے کام کی قدیر بعد میں آنے والے مورخین کی نظر سے ہم کہیں تو اس کا پورا تصور کرنا ناممکن ہے۔آپ کی تصانیف موتیوں سے تو لے جانے کے قابل ہیں۔آپ کے فرزند مرحوم شیخ محمود احمد صاحب عرفانی نے آپ کے اس کام میں آپ کی بہت معاونت کی تھی۔لیکن وہ عین جوانی ہی میں ۱۹۴۴ء میں راہی ملک بقا ہوئے۔حضرت عرفانی صاحب اس وقت سے امادہ کر رہے تھے کہ کلیتہ قادیان آبیں۔لیکن جلد بعد تقسیم ملک کے باعث اس ارادہ کو علی جانہ پہنا سکے۔بعد ازاں سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے ۱۹۵۴ ء میں آپ کو صدرانجمن احمد یہ تاریان کا مہر مقرر فرما دیا تھا اور ایک بار جبکہ آپ قادیان تشریف لائے ہوئے تھے۔اس کے ایک اجلاس میں شریک بھی ہوئے تھے۔لیکن باوجود ارادہ کے بعض روکیں پڑتی رہیں۔اور آپ قریبا دو سال تک مختلف عوار من میں شدید بیمار رہے۔بعض وقت کافی افاقہ بھی ہوجاتا رہا۔لیکن تصنیف کا کام نہ کر سکتے تھے۔اسی حالت میں آپ نے داعی اجل کو لبیک کہا - إِنَّا للهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ - اصحاب احمد کے کام کے متعلق میری حوصلہ افزائی فرماتے رہتے تھے۔اور اپنی بزرگی کے باعث بہت محبت کا اظہار فرماتے رہتے۔، اور با وجود اس سارے عرصہ کی علالت کے سوائے ایک دو بار کے ہمیشہ ہی اپنے قلم سے مجھے خط تحریر فرماتے تھے۔ابھی ہفتہ عشرہ قبل بھی آپ کا خط موصول ہوا تھا " اللہ تعالیٰ اس بزرگ کی روح کو اعلی علیین میں جگہ مرحمت فرمائے اور ان کی اولاد اور جماعت میں سے ان کے نفی قاسم پر چلنے والے نیک سیرت خادم سلسلہ پیدا کرتا ہے آمین (ماشیہ مت پر)