تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 531 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 531

014 خرچ - / ۲۳۹۵۸ روپے تجویز ہوا۔ادارہ کے قانون کے مطابق ہر سال ممبران کی منظوری حضرت خلیفہ ایسیح سے لی جانی ضرور کی تھی۔چنانچہ مختلف اوقات میں منظوری کے وقت ادارہ کے ممبران میں تبدیلی ہوتی رہی تاہم مولوی ابوالمیز نور الحق صاحب ۱۹۵۷ء سے لے کہ ۱۹۸۴ ء کے آغاز تک مینجنگ ڈائریکٹر کے عہدہ پر فائز رہے اور آپ کی خدمات مسلسل ربع صدی تک ادارہ کے لیے وقف رہیں۔اور اس عرصہ میں آپ کی نگرانی میں نہایت قیمتی لٹریچر تیار ہو کر شائع ہوا جس کی تفصیل آئندہ آرہی ہے۔۱۹۸۴ء کے اوائل میں مولوی ابوالمنیر نورالحق صاحب کو حضرت خليفة السيح الرابع نے تغیر کے کام کے لیے مخصوص فرما دیا۔اور آپ کی جگہ پر مکرم چو ہدری رشید الدین صاحب سابق مبلغ لائبیریا کو ادارہ کا مینجنگ ڈائر یکٹر مقر کیا گیا۔محترم قاضی محمد اسلم صاحب کے بعد بالترتیب مندرجہ ذیل اصحاب نے ادارہ کی صدارت کے فرائض سر انجام دیئے۔مکرم شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ لاہور (۱۹۷۳ء) شه ۲۔مکرم میاں عبدالسمیع صاحب نون ایڈووکیٹ سرگودہا (۱۹۷۳ء تا ۱۹۷۸ء) حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب ۴ - صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب (۱۹۷۸ تا ۶۱۹۸۲ (۱۱۹۸۲ ) ۱۹۸۳ ء میں حضرت خلیفہ المسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ نے مکرم ملک سیف الرحمن صاحب کو صدر مقرر فرمایا۔۱۹۸۴ء میں جبکہ آپ بیرون پاکستان تھے۔آپ کے قائمقام کی حیثیت سے محترم سید عبدالی صاحب ناظر اشاعت نے ادارہ کا چارج سنبھالا۔بعد ازاں یہ ادارہ نظارت اشاعت میں مدغم کر دیا گیا ملہ آپ ۱۹۷۸ء سے ۱۹۸۵ء تک ادارہ کے نائب صدر رہے نیز فرمایا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص اس عہدہ پر ہے وہ مستقل مقرر ہو جائے۔نیز فرمایا اس دوماہ میں مولوی نور الحق صاحب کے دستخطوں سے بل آڈیٹر صاحب منظور کریں ( دستخط مرز امحمود احمد) لہذا اب حضور کے اس ارشاد کی وجہ سے ماہ اپریل ۱۹۵۴ء کا بل جو قابل دستخط ہے اور جو اصل کا غذات مولوی نور الحق صاحب نے منظوری کے لیے حضور کو دیئے تھے وہ بھی واپس ارسال ہیں ان کو بجٹ پیش کرتے وقت پھر ساتھ ہی واپس کر دیں فی الحال ارسال ہیں تا کہ ادائیگی رقوم میں وقت نہ ہو۔خاکسار عبد الرحمن النور" ۳۰/۴/۶۱۹۵۸