تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 464 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 464

۴۳۹ یعنی نا نا اور گنی کی آزادی نے افریقنوں میں اتنی زبر دست خود اعتمادی پیدا کردی که نو آبادیاتی نظام کا خاتمہ چند برسوں کے اندر ہی ممکن ہو گیا۔سامراجیت کے خلاف اس جدوجہد سے افریقی قومیت کی سرحدیں ابھر آئیں اور افریقی تحریکات منظم ہوگئیں۔قبل ازیں جو مالک آزادی سے ممکنار ہو چکے تھے وہ بھی نو آبادیاتی نظام کے خلاف برسر پیکار لوگوں کی مدد کرنا اپنا مقدس فریضہ سمجھنے لگے کیونکہ ان کی اپنی حفاظت اس وقت تک خطرے میں مفتی حبیب تک کہ پورا براعظم سامراجیت کے تسلط سے آزاد نہ ہو جاتا۔چنانچہ غانا کے ڈاکٹر نکرد مانے پہلی ٹیل افریقن کا نفرنس میں کہا کہ نانا کی آزادی بے سود ہے جب تک کہ اسے پورے براعظم کی تحریک آزادی سے وابستہ نہیں کیا جانا۔۱۹۵۷ ء میں غانا کی کل آبادی ۴۵ لاکھ تھی جس میں مالکی فرقہ کے مسلمانوں کے علاوہ ۳۰ ہزارہ و سے زائد افراد احمدی تھے اور یہ تعداد اس تیزی سے بڑھ رہی تھی کہ عیسائی حلقوں میں تشویش اضطراب کے واضح اثرات نمایاں ہو چکے تھے اور عمائدین حکومت اور ملک کے اونچے طبقوں میں بھی تحریک احمدیت کے اثر و نفوذ میں اضافہ ہو رہا تھا۔چنانچہ وزیر اعظم ڈاکٹر کو امی نکرد ما (KWAME NKRUMAH) جن کی قیادت میں تحریک آزادی کامیابی سے ہمکنار ہوئی، ایک بار احمدیہ سیکنڈری سکول میں تشریف لائے اور اپنی تقریر میں احمدیت کو سراہا اور طلبہ کو اسلام کا مطالعہ کرنے کی تلقین کی اسی طرح "کفرد ڈوا" نامی شہر میں دوران تقریہ کہا کہ صحیح رنگ تو احمد ی ہی مسلمان ہیں اور وہ جس انداز میں اسلام کی تہ جمانی کرتے ہیں وہ ہمارے لیے قابل قبول اور مفید ہے۔ان کے علاوہ گولڈ کوسٹ کی دستور ساز اسمبلی کے صدر سرایمینوٹیل کیسٹ نے اکرا کیونٹی سینیٹر میں جماعت احمدیہ کے ایک جلسہ کی صدارت کی اور اپنے صدارتی ریمارکس میں احمدیہ مشن کی خدمات کو خراج تحسین ادا کیا اور اسے تحمل، امن اور رواداری کا مکمل نمونہ قرار دیتے ہوئے دوسرے مشغوں کو اس کی تقلید کرنے کی نصیحت کی یہ بنانا کی آنراد مملکت کے قیام پرہ المصلح الموعود نے اپنی اور جماعت احمدیہ کی طرف سے اور مار پرچ له الفضل ، مارچ ، ۱۹۵ متر مضمون مکرم مولوی عبد القدیر صاحب شاہد سابق مبلغ ما نا حال کینیڈا)