تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 26 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 26

۲۶ نے کہا کہ " میں میاں ناصر صاحب کے پیچھے نماز نہیں پڑھوں گا۔کیونکہ رتین باغ میں ایک دفعہ ئیں اُن سے لڑ چکا ہوں۔اس لئے میں تو سیغا میوں کی مسجد میں نماز پڑھوں گا۔جس پر مولوی محمد صدیق صاحب مربی سلسلہ نے کہا کہ اگر تم نے حضرت میاں صاحب کے پیچھے نماز عید نہیں پڑھتی تو آج سے تمہارا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہ ہو گا۔یہ سن کر وہ غیر لاج میں عید پڑھنے کے لئے تیار ہو گیا۔دوسرے روز مولوی محمد صدیق صاحب اُسے خیبر لارج کلائے اور اپنے ہمراہ نماز کی ادائیگی کے لئے کہا۔مگر اس نے انکار کر دیا۔اور کہا کہ وہ لاہوریوں کی مسجد میں نما نہ پڑھے گا۔ایک روز اس نے خیبر لاج میں اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکر ٹری کیساتھ حضور سے مطلاقات کے لئے سخت جھگڑا کیا۔مگہ اُسے خیبر لاج سے نکال دیا گیا۔جس کے بعد رات کو وہ بیت الذکر گلونہ میں واپس آگیا۔اور اس نے کہا کہ یہ میری پیشگوئی ہے کہ جس طرح پہلے خلافت کا جھگڑا ہوا تھا۔اب پھر ہونے والا ہے۔اور آپ لوگ ایک ڈیڑھ سال دیکھ لیں گے۔نیز کہا ڈیڑھ سال کے عرصہ میں مجھے دھتکارنے والوں پر عذاب و تبا ہی آجائے گی۔جس طرح ۱۹۵۳ ء میں ہوا تھا۔اسی طرح ہوگا۔اللہ رکھتا ۲۳ جولائی شاہ کو مری سے راولپنڈی چلا آیا۔اور مری سے جاتے ہوئے بعض احمدیوں کو یہ بھی کہا گیا کہ اب تولا موریوں کی نظر خلیفہ اول کی اولاد پر زیادہ پڑتی ہے۔اور وہ میاں عبد المنان صاحب کی بہت تعریف کر رہے تھے اور ان کے نزدیک وہ زیادہ قابل میں لیے مرضی میں اس شخص کی فتنہ انگیزیاں پورے جوبن پر تھیں کہ اور جولائی 19ء کو حضرت مصلح موعود بھی ربوہ میں تین روز قیام کے بعد واپس مرکی تشریف لے آئے اور حسب دستور خیبر لاج میں قیام فرما ہوئے۔حضور کو اللہ رکھا کے بیت الذکر گل منہ میں ٹھہرنے کی اطلاع ملی۔له بیان مولوی محمد صدیق صاحب ننگی مربی سلسلہ مورخه ۲۶٫۲۳ جولائی ۱۹۵۶ئر دبیات قصور القرصاحب ابن ہری داس صاحب متعلم جامعتہ المبشرین ابر عظیم بیت احمدیه کلا نہ مورخه ۲ ۱۵ جولائی ۱۹۵۷ء رالفضل ۲۸ / ۲۹ جولائی ۱۹۵۶ء)