تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 368 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 368

۳۵۳ ۱۹۲ء میں جب حضرت مصلح موعود ودمشق تشریف لے گئے تو آپ بڑے ادب اور احترام سے لے۔اس کے بعد حضور نے متعد بار ان کی ملاقات کا ذکر فرمایا اور حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب اور مولانا جلال الدین صاحب شمس کو دمشق روانہ کرتے وقت ہدایت فرمائی کر: مغربی میرا قابل قدر قدیم دوست ہے ان سے مجھے اپنے تعلقات کو استوار رکھنا ہو گا یا حضرت سید زین العابدین دلی اللہ شاہ صاحب سے بھی آپ کے گہرے تعلقات تھے۔آپ کی پہلی ملاقات ان سے 1911ء میں ہوئی۔ایک دفعہ آپ نے حضرت شاہ صاحب کو سیر کے دوران فرمایا۔ب آئیے ہم دونوں تصویر کھچوائیں اور دوستی کا اقرار قرآن مجید پر ہاتھ رکھتے ہوئے کریں کہ ہم دونوں قرآن مجید کی خدمت کریں گے۔چنانچہ دونوں نے یہ عہد کیا ۱۹۲۵ء میں حضرت شاہ صاحب اور مولانا جلال الدین شمس ان سے ملے تو انہوں نے تصویر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا " المغربی اب تک اس عہد یہ قائم ہے۔اس عہد کو نبھاتے ہوئے موصوف نے اپنی آخری عمر میں قرآن کریم کے آخرمی پارہ کی تغیر شائع کی شور میں آپ نے ایک اخبار میں حضرت شاہ صاب کا ذکر عمدہ رنگ میں گیا۔آپ نے ایک رسالہ " الحقائق من الاحمدیہ " کے عنوان سے شائع کیا تو شیخ مغربی مرحوم نے اس کا جواب لکھنا چاہا مگر نہ کھ سکے اور دل سے صداقت احمدیت کے قائل ہو گئے اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے حضرت شاہ صاحب کو بتایا " تفسیریں اور حدیثیں اپنی لائبریری سے اس نیت سے میز پر لا کر رکھیں کہ اس رسالہ کی تردید کل شائع کر دوں گا۔چنانچہ پڑھنے کے بعد رد لکھنے بیٹھا کبھی لکھتا اور یہ دیکھ کر کہ وہ درست نہیں اسے پھاڑ دیتا اسی طرح پھٹے ہوئے کاغذوں کا ایک انبار جمع ہو گیا تھرانوں نے انگیٹھی کی طرف اشارہ کر کے فرمایا دہ ڈھیر دیکھو ! ساری رات کوشش کی کبھی حقائق احمدیہ کو دیکھنا کبھی حدیثوں کو اور کبھی تفسیروں کو میری بیوی مجھ سے کہنے لگی کیا پاگل ہو گئے ہو۔آرام کر دلیکن مجھے نیند کہاں آتی آخر جب صبح کی اذان ہوئی اور اَشْهَدُ أن لا إله إلا الله کے الفاظ گونجے تومیرے دل نے کہا کہ صداقت کا مقابلہ باطل سے کرنا درست نہیں میرے دوست ترین العابدین نے جو کچھ لکھا ہے ٹھیک لکھا ہے۔دل میں یہ کہ کہ نماز پڑھی اور اطمینان سے سو گیا۔اس واقعہ کے بعد انہوں نے فرمایا ” تبلیغ کا کام آزادی سے کہیں یا اگر چہ اپنی زندگی میں آپ کھلے طور پر احمدیت کے ساتھ وابستگی کا اعلان نہیں مگر یہ حقیقت ہے