تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 213 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 213

۲۱۳ کتاب مذہبی راہنماؤں کی سوانح عمریاں کی مینی بار کا ایک فرم نے میری را بنادی کی سوانح عمریاں" کے نام سے ایک کتاب اشاعت اور حضرت مصلح موعود کی برقت سینمائی سے لئے کی۔ہندوستان میں اس کا اردو ترجمہ بھارت کے ایک صوبہ کے گورنہ سر منشی بیٹی نے کیا۔ترجمہ کی اشاعت پر معلوم ہوا۔کہ اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مہتک کی گئی ہے۔جس پر بھارت میں زبر دست شورش ہوئی۔اور سخت فساد برپا ہوا۔سینکڑوں مسلمان شہید کر دیئے گئے۔اور ہزاروں کو جیل خانوں میں ڈال دیا گیا۔چن کے خلاف عرصہ تک مقدمے چلتے رہے اور ان کو گرفتاریوں کی سزا بھگتنا پڑی۔یہ مشورش دیکھ کہ پہلے پاکستان گورنمنٹ نے اور بعد انہاں سہندوستان گورنمنٹ نے بھی یہ کتاب ضبط کرلی۔اس پر حضرت مصلح موجود نے د راکتور برش کو ایک پر جلال خطبہ دیا۔اور فرمایا کہ یہ ضبط کرنے والا طریقہ ٹھیک نہیں۔نب تو ان لوگوں کے دلوں میں شبہ پیدا ہو گا۔کہ ہماری باتوں کا جواب کوئی نہیں۔واقعہ میں معاذ اللہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہی ہوں گے۔تبھی تو کتاب ضبط کرتے ہیں۔اس کا جواب نہیں دیتے ، اصل طریق یہ تھا کہ اس کا جواب امریکہ میں اور اس کا ترجمہ ہندوستان میں شائع کیا جاتا۔چنانچہ حضور نے فرمایا : - " " کہا جاتا ہے کہ مہندومسلمانوں کے احتجاج کے جواب میں یہ کہتے ہیں کہ یہ کتاب تو ۲۹ سال ہوئے امریکہ میں چھپی تھی۔گویا اس کتاب کا لکھنے والا کوئی عیسائی ہے۔ہندو نہیں۔اگر یہ درست ہے۔تو اس صورت میں زیادہ مناسب یہ ہے کہ اس کتاب کا جواب امریکہ میں شائع کیا جائے اور اس کا ترجمہ ہندوستان میں پھیلا یا جائے۔رسول ریم صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا ہے کہ اگر تم کوئی ایسی بات دکھو جونا پسندیدہ ہو تو اگر تمہارے ہاتھ میں طاقت ہو تو تم اسے ہاتھ سے مٹا دو اور اگر تمہارے ہاتھ میں طاقت نہ ہو لیکن تم زبان سے اس کی بڑائی کا اظہار کر سکتے ہو تو زبان سے اس کی بڑائی ظاہر کرو اور اگر تم میں زبان سے اظہار کرنے کی بھی طاقت نہ ہو تو تم دل ہی میں اسے برا سمجھو۔یہ نکتہ بہت لطیف ہے اس کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان گورنمنٹ چونکہ پروٹسٹ کر سکتی ہے اس لئے اس کا فرض ہے کہ وہ ہندوستان کی حکومت پر سے پروٹسٹ کرے کہ اس نے ہمارے آقا کی ہتک کہ دائی ہے اور مہندوستانی مسلمان جو منظوم ہیں اور وہ اس کے متعلق کوئی آزادانہ کروائی