تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 136
پھر مولوی عبدالمنان صاحب سے کہا گیا کہ آپ کے بھائی مولوی عبد الوہاب کے متعلق بار بار شائع ہو چکا ہے کہ وہ منافقین اور مخالفین سلسلہ سے ملتا ہے اور ان کی طرفداری کرتا ہے۔آپ مولوی عبد الوہاب سے بیزاری کا اعلان کریں اور لکھیں کہ میں ان سے تعلق نہیں رکھوں گا گر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔پھر غیر مبایعین کے متعلق مولوی عبد المنان سے کہا گیا تھا کہ یہ لوگ حضرت خلیفہ حاول۔۔۔۔۔۔۔کی خلافت کے زمانہ میں آپ کے باغی اور مناعت تھے اور آپ کے عزل کی کوشش کرتے رہے۔لیکن اب اس فتنہ کے موقعہ پر وہ منافقانہ رنگ میں اپنی مطلب برابری کے لیے اور حضرت خلیفہ اول کے خاندان کے لوگوں کو اپنے ساتھ ملانے کے لیے حضرت خلیفہ اول کی تعریفیں کر رہے ہیں۔مولوی عبد المنان سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ اعلان کریں کہ غیر میائیلین کا یہ رویہ منافقانہ ہے۔اور ان کی یہ تعریفیں جھوٹی ہیں یہ لوگ حضرت خلیفہ اول کی ز ندگی میں برا نہ ان کے خلاف لکھتے رہے ہیں۔اور حضرت خلیفہ اول ان لوگوں کے خلاف اعلان فرماتے رہے ہیں۔اس مطالبہ کے باوجود آج تک مولوی عبد المنان نے غیر مبالعین کے اس طریق سے بھی بیزاری کا اعلان نہیں کیا۔ان امور کے متعلق جب تک واضح اعلان نہ کریں۔ان کا محض لفظی طور پر معافی مانگنا فضول ہے۔اگر وہ صاف طور پر ایسے اعلانات کر دیں تو پھر اس کے بعد ان کی معافی کے بارہ میں غور کیا جاسکتا ہے۔19/86 خاکسا رخادم حسین پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفہ المسیح الثانی شیخ صاحب دین صاحب گوجرانوالہ آپ کا خط مورخہ راہ مولوی عبد المنان صاحب کی معافی کے متعلق حضور کے ملاحظہ میں آیا۔فرمایا۔" آپ کا خط ملا آپ نے لکھا ہے کہ منان کی معافی کی اشاعت نہیں ہونی چاہیئے کیونکہ اصل عرمن اصلاح سے ہے۔اور رسول اللہ نے بھی لا تخریب علیکم الیوم کہا تھا تو کوئی اعلان نہیں کر وایا تھا۔آپ کو یاد رکھنا چاہیئے کہ اعلان بھی اصلاح کی غرض سے ہوتا ہے۔اگر کوئی واقعہ میں تو بہ کرتا ہے تو پھر اس کو اعلان سے کیا ڈر۔جبب پیغامیوں نے حضرت