تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 504
۵۰۴ باری باری فوٹو کھینچوائے۔یہ سلسلہ تقریباً نصف گھنٹے تک جاری رہا۔الفضل کے نامورنگار خصوصی جناب مسعود احمد خانصاحب دہلوی کا بیان ہے کہ اس تمام عرصہ میں ان یوگوسلاوین دوستوں پر ایک ایسا کیف کا عالم طاری رہا کہ یوں محسوس ہوتا تھا کہ اس عالم میں نہیں ایک اور ہی عالم میں ہیں اور ان کی جانب سے ذوقی و شوق اور ولولہ عشق کا اظہار خدائی تصرف کے ماتحت ہو رہا ہے۔J نماز مغرب و عشا کے بعد عشائیہ کی بابرکت تقریب بھی حضور اس کے دوران اور بعد میں علیہ السلام کے سلسلہ میں احمدی احباب کو ان کی ذمہ داریوں سے آگاہ فرماتے رہے۔ایک یوگو سلاوین مخلص احمدی برادرم شعیب موسی صاحب اپنی اہلیہ کو بیعت کرانے میں صرف اس لئے مشامل تھے کہ وہ پہلے پوری صحت کے ساتھ قرآن شریف پڑھنا یکھیں۔مگر حضور نے فرمایا کہ حق کھل جانے پر اسے قبول کرنے اور فارم پُر کرنے میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔دینی تربیت اس کے بعد ہی ہو سکتی ہے۔اس پر شعیب موسی صاحب نہ نانہ کمرہ کے دروازہ پر اپنی اہلیہ سے ملے اور حضور کے منشاء سے آگاہ کیا تو انہوں نے بخونی سیعیت فارم پہ کہ دیا۔فارم میٹر کرنے کی دیر تھی کہ بہت سے دیگر یوگو سلاوین دوستوں اور بہنوں کی طرف سعیت فارم دیئے جانے کا مطالبہ ہوتی لگا اور دیکھتے ہی دیکھتے چودہ یوگو سلاوین باشندوں نے جن میں چھ مرد اور آٹھ خواتین تھیں۔بیعت فارم پر کر کے قبول احمدیت کا اعلان کر دیا۔اس خدائی تصرف و نصرت کے روح پرور نظارہ سے تمام مجلس میں خوشی اور مسرت کی زبر دست لہر دوڑ گئی۔حضور نے بیعت کرنے والے احباب کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔" بعیت میرے ساتھ نہیں بلکہ خدائے قادر و قدوس کے ساتھ ایک عہد ہے جو آپ نے اس وقت باندھا ہے۔ہمارے آقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ مہدی علیہ اسلام کے زمانہ میں اسلام دنیا بھر میں غالب آئے گا سو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت کے مطابق وہ زمانہ آگیا۔ظہور مہدی علیہ السلام کی دوسری صدی جس کے شروع ہونے میں پندرہ سال رہ گئے ہیں، علیہ السلام کی صدی ہوگی۔آپ نے علیہ اس نام کے لئے جدو جہد کرنے اور قربانیاں پیش ا روزه نامه الفضل ۱۷ اکتوبر كان مث