تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 502
۵۰۲ شمولیت اختیار کر لی۔الحمد للہ۔اس سارے واقعہ کی اطلاع مکرم کمال یوسف صاحب نے حضور کی مندرست میں بھجوائی۔حضور نے خوشنودی کا اظہارہ فرمایا۔نیز بذریعہ تار حکم دیا کہ آئندہ تین ماہ کے لئے بشیر شمسی صاحب کو تھن برگ میں ٹھہریں۔چنانچہ اس ارشاد کی تعمیل میں خاکسار مزید تین ماہ کے لئے وہاں ٹھہر گیا اور کام کو جاری رکھا۔اللہ تعالیٰ کے خاص فضل سے اس عرصہ میں مزید پیچیس افراد سلسلہ احمدیہ میں داخل ہو گئے الحمد للہ۔ہمہرگ جوینی سے گئے ہوئے مجھے چار ماہ کا عرصہ ہوگیا تھا۔اس پر حکم چودی عبداللطیف صاحب مبلغ جرمنی نے مرکز کو لکھا کہ وہ اکیلے کام نہیں کر سکتے۔یا انہیں کوئی اور مبلغ دیا جائے یا بیشتر شمسی صاحب کو واپس ہمبرگ بھجوا دیا جائے ، اس پر مرکز کے حکم پہ خاکسارہ عمیر پہنچ گیا۔ابھی دو ماہ ہی گزرے تھے کہ دوبارہ مجھے حکم ملا کہ میں گوتھن برگ (سویڈن پہنچ کہ کام شروع کروں۔یہ اکتوبر 1979ء کا مہینہ تھا۔دوبارہ جاکہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق سے کام شروع کیا جس کے بہت اچھے نتائج بر آمد ہوئے۔اس دوران مکرم کہاں یوسف صاحب واپس ربوہ آگئے۔اور کریم سید مسعود احمد صاحب نے ڈنمارک مشن کا چارج سنبھال لیا۔گوتھن برگ مشن کی بنیادا گوفتن برگ میں جماعت احمدیہ کا قیام شاک علم کے محمد اریس صاحب اور محترم کمال یوسف صاحب کی کوشش سے ہوا جنہوں نے گوفتن برگ میں یوگو سلاو احباب کے ایک اجتماع کا انتظام کیا جس میں سب سے پہلے یوگوسلاوین مسلمان HAIRULLAH با قاعده بعیت کر کے داخل احمدیت ہوئے پھر ان کی تبلیغ سے ایک اور شخص حسن نامی نے بعیت کی۔۔۔۔۔آب ان دونوں احمدی احباب نے اار مٹی شوید اور کو ایک اور مجلس منعقد کی جس میں مکرم کمال یوسف صاحب مولوی بشیر احمد صاحب شمسی نے بھی شرکت کی۔اس میٹنگ اور اس کے بعد کی کوششوں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے مزید گیارہ اشخاص احمدی ہو گئے۔ازاں بعد اس مٹی 1949 کو سیرت النبیؐ کا ایک کامیاب جلسہ منعقدہ کیا جلسہ کے بعد انفرادی ملاقاتوں کے دوران مزید پانچ افراد سلسلہ سے منسلک ہو گئے۔پھر مزید تین خاندان جو بارہ افراد پرمشتمل تھے داخل جماعت ہوئے۔اسی طرح جون ۱۹۶۹ء تک یوگوسلاو احمدی احباب کی تعداد ۳۳ تک پہنچ گئی۔