تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 487 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 487

م شائع کردہ رسالہ ہے جب اُس نے مشن کے قیام کا اعلان چند سال ہوئے کیا تو ہوں کے لئے حیرانی کا موجب مواس مرکز سلسلہ کی طرف سے ۲۵ مار پچ ۱۹۵۷ء کو ڈنمارک ڈنمارک ایک تنقل مشن کی حیثیت میں براہ راست مومینیشن کی نگرانی میں دے دیاگیا اور سویڈن میں تبلیغی ذمہ داری جناب کمال یوسف صاحب کو سونپی گئی۔دو سال بعد اکتوبر میں ڈنمارک کو ایک مستقل مشن کی حیثیت دے دی گئی۔اور پورے سکنڈے نیویا مشن کے انچارج کمال یوسف صاحب مقرر کئے گئے۔صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب صاحبزاده مرا مبارک حرا کا دوه کوپن مین امین البشر او باشد که اگر ہفتے میں کوپن ہیگن کے مختصر دورہ پر تشریف لائے اور سکنڈے نیویا مشن کا براہِ راست انچارج کمال یوسف صاحب کو تجویز فرمایا اور فوری طور پر خانہ خدا کی زمین خرید کر اُس کی تعمیر کرنے کی ہدایت فرمائی اور ایک پریس کانفرنس سے خطاب فرمایا جس میں کثرت سے پریس رپورٹرز اور نیوز ایجنییز شامل ہوئیں۔کم و بیش پچاس اخبارات نے آپ کے فوٹو کے ساتھ جلی حروف اور بڑی بڑی مہر خوں کے ساتھ اس کی رپورٹ شائع کی جن کا خلاصہ یہ تھا کہ ایک مسجد گنبد اور مینار کے ساتھ کوپن بیگن کے وسط میں تعمیر کی جائے گی۔یہ فیصلہ اسی بنیاد پر کیا گیا ہے کہ سکنڈے نیویا اور خصوصاً ڈنمارک میں اسلام جلد جلد ترقی کر رہا ہے۔اس مختصر دورہ کے دوران مکرم بشیر احم صحاب رفیق بطور سیکرٹری آپ کے ساتھ رہتے لیے جناب کمال یوسف صاحب ۶ سال تک تنہا اشاعت حق دوسرے مرکزی بیشترین اسلام کی آمد کے جہاد میں مصروف رہے۔جس کے بعد مشن کی سرگرمیوں میں ایسی وسعت پیدا ہوئی کہ سکنڈے نیویا کے تینوں ممالک یعنی ڈنمارک ، سویڈن اور ناروے ہیں تین مستقل مشن قائم کر دیئے گئے۔ان مشنوں کا چارج سنبھالنے کے لئے اور تبلیغی کوششوں کو تیز تر ه روزنامه الفضل ربوه مورخه ۱۹ر اپریل نشده صفحه ۱ - ۲ فائل تبشیر ۶۱۶ نمبر ام