تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 336 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 336

ڈاکٹربلی گراہم پر اتمام محبت جنوری شاہ کے آخر میں مشہور امریکن پادری ڈاکٹر بلی گراہم آٹھ امریکن پادریوں کے ہمراہ افریقین ممالک کے دورہ MONROVIA پر سب سے پہلے مغربی افریقہ کے ملک لائبیریا آئے وہاں انہوں نے اپنے تین روزہ قیام کے دوران عیسائیت پر تین پبلک لیکچر دئیے۔لوگوں کو یہ لیکچر سنتے پر آمادہ کرنے کیلئے منر دیا دار الحکومت میں بے شمار ہینڈ بل تقسیم کئے گئے۔حتی کہ ہوائی جہازوں کے ذریعہ بھی یہ اشتہار شہر پر پھینکے جاتے رہے۔لوکل اخبارات میں بھی ایک ہفتہ تک خوب پراپیگنڈہ ہوتا رہا۔اور یہ سب پراپیگنڈہ امریکن کونسل کی طرف سے کیا جاتا رہا۔ہوائی اڈہ پر اور پھر شہر میں ڈاکٹر گراہم کا عیسائیوں کی طرف سے شاندار استقبال کیا گیا۔جس میں لائبیریا کے پریذیڈنٹ جناب ولیم ٹب میں خود شریک ہوئے اور ڈاکٹر گراہم کے تینوں لیکچروں کے موقع پر صدارت کے فرائض بھی انہوں نے خود انجام دیئے۔ڈاکٹر گراہم ایک نہایت ہوشیار اور مشاق لیکچرار اور بین الاقوامی شہرت کے مالک پادری ہیں۔بقول ان کے اس وقت ان کا ہفتہ واری لیکچر " فیصلہ کا وقت " ایک ہزارہ ریڈیو اسٹیشنوں سے براڈ کاسٹ کیا جاتا تھا۔ڈاکٹر گراہم نے اپنے لیکچروں کے دوران قرآن مجید پر زیر دست تنقید کی کہ اس میں نسل انسانی کی نجات اور دنیا کے مستقبل کا کوئی ذکر نہیں۔نہ کوئی پیشگوئی موجود ہے۔اس پر مولوی محمد صدیق صاب امرتسری نے ان کی آخری تقریر میں پلک مناظرہ کا چیلنج دیا اور جمہوریہ متحدہ عربیہ (مصر) کے سفیر مقیم لائبیریا استاذ انور فرید اور ایک امریکن پر نہیں رپورٹر نے آپ کی تائید کی اور اُن سے کہا کہ اول تو آپ کو قرآن مجید کا اس رنگ میں ذکر ہی نہیں کرنا چاہیے تھا اور اگر کیا ہے تو اب احمدی مبلغ کو اپنے جلسے میں جواب دینے کا موقع دیں۔مگر ڈاکٹر گراہیم کا سر صلیب کے شاگرد کے مقابلہ میں آنے کی جرات نہ کر سکے۔ڈاکٹر بلی گراہم صاحب کے نائیجریا اور مشرقی افریقہ پہنچنے پر ہمارے وہاں کے مبلغین کرام نے بھی انہیں اس قسم کے کھلے چیلینج دیئے بلکہ مقابلہ دعا کا نشان دکھانے اور دیکھنے کی بھی دعوت دی مگر افسوس وہاں بھی وہ گریز کرتے رہے اور پبلک کے آمادہ کرنے کے باوجود مجاہدین احمدیت سے ایسا روحانی مقابلہ نہ کر سکے اور دورے سے واپسی پر امریکہ پہنچ کر بیان دیا کہ میری حالت تحقیق