تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 311
عبد الرحیم صاحب سوکیہ ہو حضور کی زیارت اور جلسہ سالانہ میں شمولیت کی مرض سے مرکز احمدیت میں تشریف لائے ہوئے تھے۔یہ تقریب بعد نماز عصر ہوئی۔نماز مغرب کے بعد انہی اصحاب کے اعزانہ میں جامعتہ المیترین کی طرف سے ایک عشائیہ کا اہتمام کیا گیا۔جس میں حضرت مولانا عبد الرحیم جناب در و کی زیر صدارت ان اصحاب نے مختصر تقاریر فرمائیں اور بالاخر حضرت مولانا درد صاحب نے صدارتی خطاب فرمایا جو اُن کی زندگی کا آخری خطاب ثابت ہوائیے شید نا حضرت مصلح موعود نے ۲۷؍ دسمبر ۱۹۵۵ء کو جلسہ سالانہ کے ایک نہایت اہم تحریک وقع پر تحریک فرمائی کہ اصحاب مسیح موعود کے حالات جلد سے جلد محفوظ ہو جانے چاہئیں اور جس کو کوئی روایت پتہ لگے وہ اخبارات اور کتابوں میں چھپوا دے اور ملک صلاح الدین صاحب کو پہنچا دے تا یہ خزانہ محفوظ ہو جائے۔چنانچہ فرمایا :- " ہمارے ہاں بھی صحابہ کے حالات محفوظ ہونے چاہئیں ملک صلاح الدین صاحب لکھ رہے ہیں۔۔۔۔۔جس وقت یورپ اور امریکہ احمدی ہوا، تو انہوں نے آپ کو برا بھلا کہنا ہے کہ حضرت صاحب کے صحابہؓ اور ان کے ساتھ رہنے والوں کے حالات بھی ہمیں معلوم نہیں وہ بڑی بڑی کتابیں لکھیں گے جیسے یورپ میں بعض کتابوں کی نہیں ہیں چالیس چالیس پونڈ قیمت ہوتی ہے اور بڑی بڑی قیمتوں پر لوگ ان کو خریدیں گے مگر ان کا مصالحہ ان کو نہیں ملے گا اور وہ غصہ میں آکر تم کو بد دعائیں دیں گے کہ ایسے قریبی لوگوں نے کتنی قیمتی چیز ضائع کر دی۔ہم نے تو اب تک حضرت مسیح موعود علیہ سلام کی سیرت بھی مکمل نہیں کی۔بہر حال صحابہؓ کے سواسخ محفوظ رکھنے ضروری ہیں۔جس جس کو کوئی روایت پتہ لگے اس کو چاہیے کہ لکھے کہ اخباروں میں چھپوائے۔کتابوں میں چھپوائے اور جن کو شوق ہے ان کو دے تاکہ وہ جمع کریں اور پھر وہ جو کتابیں چھاپیں ان کو ضرور خریدے اور اپنے بچوں کو پڑھائے۔صحابہ میں جو رنگ تھا اور ان لوگوں میں جو قربانی تھی وہ ہمارے اندر نہیں ہے مگر ہمارے اندر بھی وہ طبقہ جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسّلام کی صحبت پائی تھی۔بڑا مخلص تھا اور ان میں بڑی قربانی تھی اگر وہی اخلاص آج کل نوجوانوں میں پیدا ہو جائے تو جماعت ایک سال میں کہیں سے کہیں نکل جائے بیٹے A- له الفضل بر دسمبر و اوصا و ۲۱ دیمیر شاه صفر ---- که روزنامه الفضل ربوده ۱۶ فروری ۹۵ ایر صفحه ۲