تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 196 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 196

194 نجومی ہیں اور ان کے پاس کوئی دلیل اس کو جھوٹا کہنے کی نہیں رہی۔عبد اللہ خان احمدی نمبر دار بہلولپور ۱۲۷ سرکھ برانچ ضلع لائل پور سالار والا اسٹیشن - ۲۰ ر ا پریل شده " چوہدری صاحب صاحب البام بزرگ تھے۔انہوں نے قرآن کریم کا ترجمہ حضرت مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری سے پڑھا تھا۔چنانچہ آپ کا بیان ہے کہ :- 19-4 میں ایک بار قادیان گیا تو چوہدری عبداللہ خا لصاحب بہلولپوری بھی اس وقت وہاں موجود تھے۔انہیں الہام ہوا۔اِنَّكَ عَلى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ۔اِس وقت ان کی عربی تعلیم۔اس قدریہ کم تھی کہ انہوں نے اس فقرے کے معنے مجھ سے دریافت کئے۔یکی نے اس الہام میں جو بشارت بھی اُسے بیان کیا۔اور اس وقت اُن کے ساتھ یہ بھی طے پایا کہ میں اُن کے گاؤں میں اُن کے ساتھ چلوں اور وہاں رہ کر اُن کو قرآن کریم کا ترجمہ پڑھاؤں۔میں نے اُن کو چھے ماہ تک قرآن کریم پڑھایا اور ساتھ ہی تبلیغ اسلام کی خدمت بھی سر انجام دیتا رہا۔اس عرصہ میں انہوں نے قرآن کریم ترجمہ کے ساتھ ختم کر لیا۔اور اتنی لیاقت پیدا کر لی کہ وہ دوسروں کو بھی ترجمہ پڑھا سکتے تھے اسے حضرت چوہدری صاحب ۱۹۳۲ ء کی پہلی مجلس مشاورت میں بہلولپور کے نمائندہ کی حیثیت سے شامل ہوئے۔آپ کا نام ۲۳ 2 کی رپورٹ میں فہرست نمائندگان بیرونی میں نمبر ۱۳ پر درج ہے۔چوہدری ناصرالدین صاحب واقف زندگی بی۔اے مرحوم رسابق آڈ میٹر تحر یک جدید صدا امین احمدی نے آپ کی وفات پر ایک مضمون شائع کیا جس میں لکھا کہ : قبول احمدیت کے ساتھ ہی آپ کی زندگی میں زبر دست روحانی انقلاب آگیا۔اور آپ کی ساری توجہ اصلاح نفس اور تبلیغ اسلام کی طرف پھر گئی۔آپ کو کثرت سے قادیان جانے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت سے فیض یاب ہونے کا موقع ملا۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ جب میں دین کی طرف راغب ہو کر حضرت اقدس کے دیدار سے مشرق ہوا تو حضرت کے چہرہ مبارک کو دیکھتے ہی یہ بات میرے دل میں مینے کی طرح گھٹا گئی کہ یہ پاک نور کسی کاذب کے چہرہ پر سر گتہ جلوہ گر نہیں ہوسکتا۔۔۔۔ے حیات بقاپوری حصہ اول ۴۸ وطبع سوم )