تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 113 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 113

حضرت مصلح موعود نے امریکہ کے بعد اگلے سال انڈونیشیا کی احمد یہ جماعتوں کو بھی نظام وصیت کی ترویج کی طرف توجہ دلائی جس کے خوش کن اثرات رونما ہونے رو شروع ہوگئے۔جس پر حضور نے ۲۹ جون سید کے تخطبہ جمعہ میں ارشاد فرمایا :- " حضرت مسیح موعود علیہ السّلام نے وعیت کا نظام جاری فرمایا تو اللہ تعالے نے اس میں ایسی برکت رکھ دی کہ باوجود اس کے کہ انجمن کے کام ایسے ہیں جو دلوں میں جوش پیدا کرنے والے نہیں۔پھر بھی صدر انجمن احمدیہ کا بجٹ سحر یک جدید کے بجٹ سے ہمیشہ بڑھا رہتا ہے۔کیونکہ وصیت ان کے پاس ہے اس سال کا بجٹ بھی تحریک جدید کے بجٹ سے دو تین لاکھ زیادہ ہے حالا نکہ تحریک کے پاس اتنی بڑی جائیداد ہے کہ اگر وہ جرمنی میں ہوتی تو ڈیڑھ دو کروڑ روپیہ سالانہ اُن کی آمد ہوتی مگر اتنی بڑی جائیداد اور بیرونی ممالک میں تبلیغ اسلام کرنے کی جوش دلانے والی صورت کے باوجود محض وصیت کے طفیل صدر انجمن احمدیہ کا بجٹ تحریک جدید سے بڑھا رہتا ہے۔اس لئے آب وصیت کا نظام میں نے امریکہ اور انڈونیشیا میں بھی جاری کر دیا ہے اور وہاں سے اطلاعات آرہی ہیں کہ لوگ بڑے شوق سے اس میں حصہ لے رہے ہیں۔۔میں نے سمجھا کہ چونکہ یہ خدا تعالیٰ کا قائم کردہ ایک نظام ہے اگر اس نظام کو بیرونی ملکوں میں بھی جاری کر دیا جائے تو وہاں کے مبلغوں کے لئے اور مسجدوں کی تعمیر کے لئے بہت بڑی سہولت پیدا ہو جائے گی۔جیسا کہ حضرت مصلح موعود کے مندرجہ بالا پیغام سے عیاں ہے کہ آپ کی دلی تمنا اور خواہش عتی که بر صغیر پاک و ہند کے بعد نہ صرف امریکہ اور انڈونیشیا بلکہ ساری دنیا کے ممالک میں وصیت کا قیام عمل میں آجائے سو الحمد للہ حضور نے ۱۹۵۵ء میں جو آواز بلند کی تھی اس کی گونج اب آہستہ آہستہ ساری دنیا میں سنائی دینے لگی ہے چنانچہ وکالت مال ثانی تحریک جدید دیوہ کے ریکارڈ کے مطابق جنوری شادی تک برصغیر پاک و ہند سے باہر موصیوں کی تعداد نظامی روزنامه الفضل رکوه - ارجولائی ۶اء صدا