تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 57
۵۵ کام کی زیادتی کو دیکھ کر کہتا ہے کہ بہت کام ہے مجھ سے تو یہ ہو ہی نہیں سکے گا۔اس لئے وہ کام چھوڑ کر بیٹھ جاتا ہے اور مختلف جھوٹے عذرات پیش کرتا ہے لیکن اچھا آدمی کام کی زیادتی کی وجہ سے گھر آتا نہیں بلکہ کہتا ہے کہ یکی کام کے لئے وقت کی مقدار کو بڑھا کر اور محنت میں اضافہ کر کے اس کام کو کروں گا۔سوچ لو کہ جب دنیا کے سامنے یہ حقیقت واضح طور پر پیش ہو کہ ایک شخص ایسا ہے کہ زیادہ کام کو دیکھے کہ اُس نے کام کرنا ہی چھوڑ دیا اور دوسرا ایسا ہے کہ کام کی زیادتی کی وجہ سے اس نے زیادہ محنت اور زیادہ ہمت سے کام کو سر انجام دیا تو دنیا ان میں سے کس کو اچھا سمجھے گی اور کس کو برا قرار دے گی صحابہ کی کامیابی تو خاص خدائی نصرت کا نتیجہ تھی دنیوی طور پر بھی بعض لوگ ایسے گزرے ہیں کہ جنہوں نے بظاہر نا ممکن کاموں کو ممکن کر دکھایا ہے۔سکندر، چنگیز خاں تیمور، باہر اور ہٹلر وغیرہ ایسے ہی لوگ تھے۔ان کے علاوہ اور بہت سے لوگ گزرے ہیں جنہوں نے اپنی قربانی اور ایثار سے بڑے بڑے کام کر دکھائے ہیں۔ٹرکی کی گزشتہ جنگ میں ایک کرنیل کا واقعہ میں نے پڑھا ہے کہ ایک قلعے کے فتح کرنے کے لئے وہ اپنے ساتھیوں سمیت پہاڑی پر چڑھ رہا تھا کہ درمیان میں اُسے گولی لگی اور وہ زخمی ہو گیا۔اُس کے سپاہی محبت کی وجہ سے اُس کی خبر گیری کے لئے بڑھے مگر اُس نے کہا کہ تم لوگ مجھے ہاتھ مت لگاؤ وہ سامنے قلعہ ہے جس کا فتح کرنا ہمارا مقصد ہے جاؤ اور اس قلعہ کو فتح کرو۔اگر فتح کر لو تو اس قلعے کے اُوپر میری لاش کو دفن کرنا ورنہ اُسے کتوں کے کھانے کے لئے چھوڑ دینا۔اس کے اس جذبہ کا اس کے ساتھیوں میں وہ اثر ہوا کہ سب نے نہایت ہمت کے ساتھ جنگ کی اور قلعے کو فتح کر لیا۔پس دنیا میں کوئی کام نا ممکن نہیں۔صرف وہی کام نا ممکن قرار دیا جائے گا جیسے ہمارا خدا ناممکن قرار دے۔لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے قرآن کریم نے کائنات عالم کے رانہوں کو جاننے کی طرف نعود توجہ دلائی ہے اور وعدہ کیا ہے کہ جو لوگ صحیح روح سے اس راستے میں کام کریں گے وہ ضرور کامیاب ہوں گے۔پس میں اس انسٹی ٹیوٹ کے افتتاح کے وقت توجہ دلاتا ہوں کہ اپنے اندر قرآنی روح پیدا کرو۔زیادہ محنت اور زیادہ وقت لگا کر کام کرنے کی عادت ڈالو تب بہت سی چیزیں جو دنیا کے لئے ناممکن ہیں تمہارے لئے ممکن ہو جائیں گی۔تمہارے سامنے کائنات عالم کی کوئی دیوار بند نہیں تم جس طرف بڑھنا چاہو اللہ تعالیٰ کی نصرت تمہارے لئے دروازہ کھول دے گی۔تمہارا یہ کام کوئی دنیوی کام نہیں بلکہ حقیقتاً دینی کام ہے۔قرآن مجید کے حکم کی تعمیل ہے۔اور پھر