تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 563 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 563

۵۳۷ میری به انتہائی خواہش ہے کہ جو کچھ میں آپ سے کہوں آپ اس کو یاد کریں اور اس بلند معیار تک پہنچ جائیں جو اسلام آپ لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے۔یکی سمجھتا ہوں کہ اگر آپ لوگ اس کے لئے کوشش کریں تو آسانی کے ساتھ کر سکتے ہیں ایسی جماعت جس میں مسٹر صادق و انڈر لینڈ اور مسٹر عبد اللطیف ڈی لائین جیسے جو شیلے کا رکن موجود ہوں وہ ضرور ایسا کر سکتی ہے یہ تو جوان اپنے یقین اور ایمان میں اس قدر بڑھے ہوئے ہیں کہ انسان ان کے چہروں سے ہی اس جوش کا اندازہ لگا سکتا ہے جو ان کے دلوں میں اسلام کی تعلیم پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ واشاعت کے لئے پایا جاتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جب بھی دنیا میں سچائی آتی ہے تو وہ ہمیشہ ایک بیچ کی طرح آتی ہے۔جب میں نوجوانی کو پہنچا تو اس وقت میں نے اپنا ایک اخبار الفضل نامی جاری کیا تھا بلکہ اس سے بھی پہلے جب میں صرف چودہ سال کی عمر کا تھا تو میں نے ایک ماہوار رسالہ نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کے لئے نکاں تھا۔اور پہلا مضمون جو میں نے اس میں لکھا۔اس کا مضمون یہ تھا کہ تم یہ نہ دیکھو کہ اس وقت کتنے احمدی ہیں بلکہ تم قدرت کے کام کی طرف دیکھو تم دیکھتے ہو کہ یہ بڑے بڑے جنگلات جو سینکڑوں میل میں پھیلے ہوئے ہیں یہ صرف چھوٹے سے بیچ سے شروع ہوئے ہیں اسی طرح ایک چھوٹا سا بیچ اس زمین میں ہو یا گیا۔اور اس نے اس زمین میں جڑیں پکڑ لی ہیں اور اب اس سے ایک عظیم الشان درخت پیدا ہوا ہے مگر آئندہ اس درخت سے اور بیچ پیدا ہوں گے اور وہ زمین پر گریں گے۔اور ایک درخت کی جگہ کئی درخت اگیں گے اور اس طرح آہستہ آہستہ ان چھوٹے چھوٹے بیجوں سے بڑے بڑے باغات پیدا ہو جائیں گے یہی حالت سچائی کی ہوتی ہے جب میری عمر انیس سال کی تھی تو احمدیوں کی تعداد صرف چند سو تھی اس وقت میں نے کہا کہ اگر چہ اس وقت ہم صرف چند سو ہیں لیکن ایک وقت آئے گا جب کہ ہم ہزاروں پھر لاکھوں پھر کر وڑوں کی تعداد میں ہو جائیں گے۔اب تم اس زمانہ پر جس وقت میں نے بیضمون لکھا نظر ڈالو اور جماعت کی موجودہ حالت کو دیکھو تمہیں پتہ لگے گا کہ ہماری جماعت نے کیسی حیرت انگیز ترقی کی ہے۔ایک ملکہ سالانہ میں جبکہ قادیان میں احمدی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس آئے ان کی تعداد صرف سات سو تھی لیکن اب ہر سال جلسہ سالانہ پر پچاس ہزار لوگ صرف اس کے شاگرد اور خلیفہ کے پاس جمع ہوتے ہیں۔یہ چیز ظاہر کرتی ہے کہ جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑھ رہی ہے اس