تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 525
میں سوار ہوتے اور پھر طیارہ کو اڑتے ہوئے بآسانی دیکھ سکتے تھے۔ا بیجھے شب حضور محترم چودھری محمد ظفراللہ خانصاحب اور دیگر ساتھیوں کی معیت میں جہاز پر سوار ہونے کے لئے تشریف لے گئے جہاز کی سیڑھیوں پر چڑھتے ہوئے اور اس سے قبل بھی کئی مواقع پر بعض دوستوں نے تصاویر اتاریں۔حضور جہاز میں تشریف رکھ چکے تھے کہ حسب پروگرام امیر مقامی جناب چودھری عبد اللہ معا تصاحب کی قیادت میں اجتماعی دعا شروع ہوئی۔ابھی دُعا ختم ہی ہوئی تھی کہ جہاز حرکت میں آیا اور پونے دو بجے شب کراچی کی سرزمین سے دمشق کے لئے روانہ ہوگیا۔جب تک کالے کالے آسمان پر جہاز کی سُرخ روشنیاں نظر آتی رہیں عاشقان محمود دھڑکتے ہوئے دلوں اور پُر نم آنکھوں سے زیر لب دعا کرتے ہوئے اپنی جگہوں پر کھڑے جہاز کو دیکھتے رہے۔اس موقعہ پر بھی مقامی جماعت کی طرف سے دو بکر سے بطور صدقہ ذبیح کئے گئے۔حضور کی روانگی کے موقعہ پر پیر و نجات سے جو احباب شریک ہوئے ان میں سے بعض کے اسمار یہ ہیں :- حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی از قاریان - چوہدری انور حسین صاحب شیخو پوره خواجہ محمد یعقوب صاحب سیالکوٹ۔صوفی محمد رفیع صاحب سکھر۔چوہدری شریف احمد صاحب خانیوال۔میاں عبد الرحیم صاحب پراچہ ملتان چوہدری عزیز الله صاحب ظفر آباد، بابو عبد الغفار صاحب حیدر آباد سنده منشی محکم دین صاحب باڑہ۔بابوسلیم اللہ صاحب میر پور خاص حاجی عبد الرحمن صاحب پینڈنٹنٹ رئیس باندھی چوہدری فضل احمد صاحب محمود آباد - مولوی غلام احمد صاحب فرخ نواب شاه نیه امیر مقامی حضرت صاحبزاده میرزا بشیر احمد صاحب کی تحریک پر ربوہ میں اجتماعی دعائیں ۲۹ ر اپریل کی رات کو سفر یورپ کے لئے حضور کی روانگی کے موقعہ پر ربوہ میں مقامی جماعت کی طرف سے صدقہ کا انتظام کیا گیا۔نیز رات کو ایک بجے جب کہ حضور نے ہوائی جہاز کے ذریعہ کراچی سے داشتن روانہ ہونا تھا اہل ربوہ نے مسجدوں میں جمع ہو کر سفر یورپ کے با برکت ہونے کے متعلق نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کیں۔ان خصوصی دعاؤں کو اجتماعی رنگ دینے کے لئے محلہ جات کے پریذیڈنٹ صاحبان کے روزنامه الفضل " ربوه ۱۹ رمتی شهواء مت