تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 506
لم درام ملکوں کو عزت اور ترقی بخشے۔اس واقعہ سے طبیعت میں اور بھی زیادہ سکون پیدا ہوا اور پریشانی دور ہوئی۔خدا کرے کہ مسلمانوں میں پھر سے اتحاد پیدا ہو جائے اور پھر سے وہ گذشتہ عروج کو حاصل کرنے لگ جائیں اور اسلام کے نام میں وہی رتب پیدا ہو جائے جو آج سے ہزارہ بارہ سو سال پہلے تھا میں اس دن کے دیکھنے کا متمنی ہوں اور ہر وقت اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں۔جب سعودی عراقی شامی اور لبنانی ، ترک۔مصری اور یمینی سو رہے ہوتے ہیں میں ان کے لئے دعا کر رہا ہوتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ وہ دعائیں قبول ہوں گی خدا تعالئے ان کو پھر ضائع شدہ عروج بخشے گا اور پھر محمد رسول اللہ رصلی الہ علیہ وسلم) کی قوم ہمارے لئے فخر و مباہات کا موجب بن جائے گی خدا کرے جلد ایسا ہو۔میں شورٹی میں آنے والے دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ سنجیدگی سے سجٹ اور دوسری باتوں پر غور کریں اس سال دس بارہ دن لگا کر میں نے خود سجٹ کو حل کیا ہے اس لئے سبجٹ میں دوستوں کو زیادہ تبدیلی نہیں کرنی چاہیے میرا خیال ہے کہ میری ہماری کا موجب وہ محنت بھی تھی جو تحریک اور انجمن کے بجٹوں کو ٹھیک کرنے کے لئے مجھے کرنی پڑی۔میں تو بیمار ہو گیا مگر میری وہ محنت کئی سال تک آمد و خرچ کے توازن کو ٹھیک کر دے گی۔اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کے ساتھ ہوا اور آپ کو ان فرائض کے پورا کرنے کی توفیق دے جن کا آپ وعدہ کر چکے ہیں اور جن کے بغیر جماعت کی قریب کی ترقی ناممکن ہے۔۱۲ مرزا محمود احمد خلیفہ المسیح الثانی اب اسے مجھے مشورہ دیا گیا ہے کہ مجھے ہوائی جہاز کے ذریعہ سفر کرنا چاہیئے سو ہم چھٹا پیغام انشاء اللہ کراچی سے ۳۰ اپریل کو نصف شب کے قریب روانہ ہو کہ یکم مئی مهور در ۲ را پریل ۹۵ کو دشن پہنچیں گے۔اس سے قبل ہمارے قافلے کا ایک حصہ کراچی۔۔سے براہ راست لندن جائے گا اور انشاء اللہ ۲۷ اپریل کو وہاں پہنچ جائے گا۔احباب دعا کریں کہ اللہ تعالے اس سفر کو با برکت کرے اور میری صحت بہتر ہو جائے اور میں تفسیر القرآن کا کام مکمل کر سکوں۔(خلیفہ اسیح ) نوٹ: یہ تار کراچی سے ۱۲ اپریل کو صبح ، بیچے چلی مگر ربوہ میں ہمار اپریل کی شام کو پہنچی کیک ۱۴ ل روزنامه الفضل زیوه ۱۰ اپریل ۱۹۵۵ء ملت ۲ : که روزنامه الفضل ربوه ۱۶ را به بیل ها و صد کالم را