تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 478 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 478

۴۵۸ خاصی رقم اخراجات سفر کے لئے پیش کر دی جو حضور کے ہمراہ جانے والے خادموں کے لئے تھی، لیکن خلفاء کوئی جماعتی قدم خدا تعالے کے اذن کے بغیر نہیں اٹھا سکتے اور چونکہ مثبت الہی میں بیرونی سفر کی آئندہ وقت کے لئے مقدر تھا۔اس لئے نو دس ماہ گزرنے کے باوجو د حضور کو اس مشورہ کو قبول کرنے میں سراسر تائل رہا ہے لیکن جب لاہور کے چیدہ ڈاکٹروں نے علاج کے لئے یورپ یا امریکہ جانے کا مشورہ دیا تو حضور کا ذہن بھی خدا تعالیٰ کے تصرف خاص سے اس طرف منتقل ہو گیا اور خود استخارہ کرنے کے علاوہ مندرجہ ذیل احباب سے بھی استخارہ کرنے کے لئے ارشاد فرمایا :- (1) ڈاکٹر سید غلام غوث صاحب۔(۲) حضرت مفتی محمد صادق صاحب۔(۳) حضرت بھائی عبد الرحیم صاحب۔(۴) حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی - (۵) حضرت مولوی غلام نبی صاحب مصری۔(4) صوفی محمد ابراہیم صاحب ہیڈ ماسٹر تعلیم الاسلام ہائی سکولی آخر جب دعاؤں کے بعد جناب الہی کی طرف سے حضور کو اطمینات یورپ جانے کا فیصلہ علی نصیب ہوا توحضور نے بھی پیشود، قبول فرمایا گرامریکہ جانے کے قلب نصیب یہ مگر لئے زر مبادلہ کی دقتوں کی وجہ سے حضور نے امریکہ کی بجائے یورپ تشریف لے جانے کا فیصلہ کیا۔کیونکہ حضور کو بتایا گیا کہ یورپ میں علاج بہت اعلیٰ ہو گیا ہے خصوصا سوئٹرزلینڈ کے ڈاکٹر امریکہ جا جا کر سیکھ کہ آ رہے ہیں۔اور اقوام متحدہ کی طرف سے یورپ کے ہسپتال بھی آپ ٹوڈیٹ : Up To) DATE ہو گئے ہیں کہ حضرت مصلح موعود نے سفر یورپ کا فیصلہ کرنے کے ساتھ یہ بھی فیصلہ فرما یا کہ اپنے اہل بیت کو بھی شریک سفر رکھیں گے چنانچہ حضور نے انہی دنوں حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب کے نام ایک مکتوب میں لکھا: میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں یورپ ہو آؤں تاکہ میں کام کے قابل ہو جاؤں ایسی حالت میں میں بیوی بچوں کو پچھے نہیں چھوڑ سکتا۔اس لئے سب کو ساتھ لئے جا رہا ہوں۔انشاء اللہ۔لوگوں کی نگاہ میں اتنے بڑے قافلے کو لے جانا مجیب معلوم ہوتا ہے مگر میرا یقین ہے کہ وہ مجیب خدا ان حالات میں بھی میرے لئے نے رپورٹ مجلس مشاورت ۹۵ : ما الفضل ۳۰ / اپریل ۱۹۵۵ ء۔سے مکتوب حضرت مصلح موعود بنام سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب مطبوعه ۱۶ ر ماری ۱۹۵۹ من