تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 312
۲۹۵ فصل چهارم حضرت مصلح موعود کا ہر احسان رجون کو بذریعہ جناب ایکسپریس بدہ حضرت مصلح موعودہ کا سفر سندھ سے کراچی تشریف لے گئے۔ریلوے اسٹیشن پر سینکڑوں مدام نے پر سوز دعاؤں کے ساتھ اپنے پیارے امام کو الوداع کہا۔اس سفر میں حضرت سیدہ اتم منین صاحبہ نصرت سیده بشری بیگم صاحبہ اور بعض دیگر افراد خاندان کے علاوہ عملہ پرائیویٹ سیکرٹری کے کچھ ارکان کو حضور کی معیت کا شرف حاصل ہوا حضور نے اپنے بعد، ار احسان / جون تک مولانا جلال الدین صاحب شمس کو اور اس تاریخ کے بعد حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کو امیر مقامی مقرر فرما یا بنه حضرت مصلح موعود ہر ماہ وفا جولائی تک کراچی میں قیام فرمار ہے۔ازاں بعد ناصر آباد، محمد آباد، محمود آباد دنیشد احمدی اسٹیٹس میں تشریف لے آئے حضور نے سفر سندھ کے دوران احمدیوں کو تبلیغ اسلام اور محنت کی طرف خاص توجہ دلائی۔چنانچہ از ماه ظهور را اگست کو محمد آباد میں خاص اسی موضوع پر خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا :- گورنمنٹ نے اپنی مصلحتوں کے ماتحت اجن کو میں ٹھیک سمجھتا ہوں سرکاری افسروں اور ساری ملازمین کو تبلیغ سے روک دیا ہے۔لیکن اس کا عوام الناس سے کوئی تعلق نہیں۔پس تمہیں کوئی قانون اپنے بھائی بندوں کو تبلیغ کرنے سے نہیں روک سکتا، بشر طیکہ تم ان سے کام لو اور فتنہ کو ہوا ان دو۔تمہیں صرف فساد سے روکا جاتا ہے اور فساد اور تبلیغ کبھی اکٹھے نہیں ہو سکتے۔یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک شخص دوسرے کو نیکی کی تلقین کرے اور پھر خود ہی فساد کرنے لگ جائے۔ہاں اگر دوسرا شخص فساد کرتا ہے تو یہ اس کی اپنی غلطی ہے۔تبلیغ کرنے والے کا اس میں کوئی قصور نہیں۔میں ۳۳۳ایش صفحه ما الفضل (لاہور) در احسان /جون ۱۹۵۴ء