تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 220
۲۰۸ کو بمقام ہوگا انعقاد پذیر ہوئی۔ہوگر جو جاکرتا ہے کوئی چالیس میل جنوب کی طرف واقع ہے انڈونیشیا پر یس اور ریڈیو اور پوسٹر کے ذریعہ اس اہم کا نفرنس کی خبرٹو پر سے مک میں پھیل چکی تھی۔نیز شہر کے سنیما گھروں میں بذریعہ فلم سلائیڈز اس کی خبر ایک ہفتہ تک نشر ہوتی رہی۔یہ ہر دسمبر کی شام کو کانفرنس کی استقبالیہ تقریب نہایت وسیع پیمانے پر منعقد ہوئی جس میں بہت سے سرکاری محکام، معززین اور شہر کی دیگر اعلیٰ شخصیتوں نے بھی شرکت کی جن میں ڈپٹی کمشنر اور بلوگر شہر کے بہت خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔اس موقع پر پریذیڈنٹ انڈونیشیا ڈاکٹر سو کارنو، جناب ڈاکٹر محمد حتی ، جناب وزیر اعظم، نائب وزیراعظم، وزیر داخلہ، وزیر خارجه، دور بر سوشل معاملات ، گورنر مغربی جاوا، فضائی فوج کے سربراہ اور انڈونیشیا کی پولیس کے افسر اعلیٰ اور دوسرے انڈونیشی زعماء کی طرف سے مبارک بادی کے پیغامات موصول ہوئے، استقبالیہ تقریب میں رئیس التبلیغ انڈونیشیا اور پریزیڈنٹ جماعت احمد یہ انڈونیشیا نے تقاریر کیں۔اختتام پر حضرت مصلح موعود کا لیکچر احمدیت کا پیغام تمام مدعوین میں مفت تقسیم کیا گیا۔۲۵ دسمبر کو صبح آٹھ نیچے کا نفرنس کی باقاعدہ کارروائی شروع ہوئی۔افتتاحی اجلاس میں جناب مولوی عبد الواحد صاحب زمیں تبلیغ انڈونیشیا نے حضرت مصلح موعود کارہ مبارک اور روح پر در میام پڑھ کر سنایا جوحضور نے از راو دوره نوازی چند روز قبل ہی بذریعہ تاریبہ کی عنایت فرمایا تھا۔اس پیغام کوسن کر تمام دل جذبات تشکر سے لبرینی تھے۔اور بہت سی آنکھیں پرنم جناب رئیس تبلیغ صاحب نے یہ پیغام سنانے کے بعد اسی پیغام کی روشنی میں احمدی احباب کو ان کے فرائض کی طرف توجہ دلائی اور ایک نئے عزم اور نئے ارادے کے ساتھ کام شروع کرنے کی تحریک کی۔اسی روز مجلس انصار الله، لجنہ اماء اللہ اور خدام الاحمدیہ کے الگ الگ اجلاس بھی ہوئے جن کی رپورٹ شام کو کانفرنس کے اجلاس عام میں پیش کی گئی۔۲۶ دسمبر کے اجلاس میں جماعت انڈونیشیا کی ترقی کے لئے بعض نئی تجاویز پر غور کیا گیا اور آئندہ سال کے چندہ عام کا مجوزہ بجٹ ایک لاکھ نو سے ہزار روپے منفقہ طور پر پاس ہوا۔۲۷ دسمبر کا اجلاس ایک کھلا تبلیغی اجلاس تھا جس کے لئے دعوت عام تھی۔اس میں چار اہم مضامین پر تقاریر ہوئیں جنہیں حاضرین نے توجہ سے سُنا جہاں کا نفرنس کے دوسرے اجلاسوں میں شامل ہونے والے افراد اور نمائندگان کی تعداد پونے تین سو کے قریب تھی اور اڑھائی سو کے قریب دیگر انڈو نیشین احمدی بھائی تھے وہاں اس تبلیغی اجلاس کی حاضری سات سو سے بھی زیادہ تھی۔شام کو کانفرنس کا الوداعی اجلاس ہوا۔جس میں پہلے مبلغین احمدیت نے تقاریر فرمائیں بعد ازاں جماعتوں