تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 541 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 541

۵۳۹ مجلس احرار کے علاوہ بعض دیگر دینی جماعتوں نے بھی مسئلہ ختم نبوت کی تبلیغ اور تعلیم میں سرگرم حصہ لیا ہے اور لے رہی ہیں مگر ہم عملاً دیکھ رہے ہیں۔کہ مسلمان ختم نبوت کے مسئلہ پر کامل یقین رکھتے ہوئے بھی قرآن و سنت کو نظر انداز کر کے کمیونزم اور سوشلزم کی راہ اختیار کہ رہتے ہیں۔اکابرین مختلف حیلوں بہانوں سے سوشلزم میں ملک کی فلاح اور نجات بیان کر رہے ہیں۔اس طرح عملاً مسئلہ ختم نبوت کی نفی کی جارہی ہے۔اور یہ حادثہ اس لیے رونا ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔کہ مسئلہ ختم نبوت کے اکابرین کی تقریروں اور عمل کے درمیان ایک طویل مسافت ہے۔تضاد ہے۔ہم آہنگی کا فقدان ہے۔حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا ارشاد ہے کہ اللہ کی دستی کو۔مضبوطی سے تھام لو اتحاد اور تنظیم کو ستحکم کردہ مگر ہم صوبائی ،انسانی اور نسلی بنوں کی پرستش کر کے ایک دوسرے کے دشمن ہو رہے ہیں۔باہمی اعتماد نہ ہو تو باہمی اخوت کس طرح ہو سکتی ہے۔مسئلہ ختم نبوت کی ضرورت مرزا غلام احمد قادیانی کی تنظیم اور نظریات کے پیش نظر ہوئی مسئلہ ختم بنوت میں زیادہ تر جماعت احمدیہ ہی کو مخاطب کیا جاتا ہے۔مگر جماعت احمدیہ نے جس طرح خود کو منظم اور تحکم کر رکھا ہے ان کے مقابلہ میں مجلس احرار یا کوئی اور جماعت اس قدر منتظم اور متحد نہیں۔جماعت احمدیہ سیاسی اقتصادی معاشرتی اور عسکری لحاظ سے طاقت دو جماعت ہے، پاکستان کے اندر اور پاکستان کے باہر اس کی تنظیم کا ایک مضبوط نظام قائم ہے۔اس جماعت کا ہر فرد اپنے عقیدہ اور عمل میں راسخ ہے۔فنڈز کے لیے اسے کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ایک نظام کے تحت از خود ان کے فنڈز میں روپیہ جمع ہوتا ہے۔ایک منصوبہ کے تحت خرچ کیا جاتا ہے۔جماعت کے پسماندہ افراد کی ہر طرح امداد اور اعانت کی جاتی ہے۔مقابلہ مجلس احرار اور دیگر دینی جماعتیں ہمیشہ فنڈ نہ ہونے کا شکوہ کرتی ہیں۔اور فنڈز کی کمی کے باعث وہ کما حقہ خدمات سر انجام نہیں دے سکتیں۔جماعت احمدیہ میں استحاد تنظیم اور ایک دوسرے کے لیے ایثار کا جذبہ ہے۔لیکن ہمارے ہاں تنظیم اتحاد اور ایثار میں کوئی سے بھی نہیں۔دوسرے معنوں میں خلوص اور عمل کا فقدان ہے اس وقت پاکستان کا ہر فرد یہ محسوس کر رہا ہے۔کہ جماعت احمد یہ ایک زبر دست طاقت