تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 503 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 503

۵۰۱ حضور نے یہ پر شوکت پیشگوئی فرمائی کہ مہ خدا مدد کے لیے دوڑا آرہا ہے ، اس پیشگوئی کے تیسرے روزہ اور مارچ سوار کو مارشل لا و ماند ہو گیا اور فرمیں لا محور میں داخل ہوگئیں۔چھ مارچ کو جمعہ تھا۔اُدھر دن طلوع ہوا رادھر خدا کی مظلوم جماعت کو مٹا دینے کے منصوبے ہونے لگے۔اس وقت کشتی احمدیت خطرناک گرداب میں ہچکولے کھا رہی تھی اور اس کا پیچ نکلنا کسی معجزہ کے بغیر ناممکن دکھائی دیتا تھا۔ایسے نازک وقت میں الہام انى مع الافواج اتيك بغتة اور حضرت مصلح موعود کی پیشگوئی کے عین مطابق خدا تعالی کی آسمانی تائید دنفرت کا یکا یک نزول ہوا اور ٹھیک بارہ بجے کے قریب لاہور میں مارشل لاء نافذ کر دیا گیا اور پاکستان کی بہادر اور محب وطن فوج چند گھنٹے کے اندر اندر امن قائم کر نے میں کامیاب ہو گئی بصورت دیگر پاکستان اور جماعت احمدیہ کا جو حشر ہوتا اس کا تصویر کر کے آج بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے میں۔ناظم مارشل لا ء میجر منزل معظم نے سچ کہا تھا کہ :- ور مارچ کو فوج نے اور ڈیڑھ گھنٹہ انتظام نہ سنبھالا ہوتا تو یہاں مکمل تباہی، لوٹ مار قتل و غارت اور زنا بالجبر کا دور دورہ ہوتا اور کسی کی عزت اور وقار محفوظ نہ تھا یہ ہے یہ مارشل لاء دار مٹی سارہ کو صبح ۳ بجے اٹھایا گیا۔ناظم مارشال ایمیجر جنزل معظم نے ۴ درمئی کو اپنی نشری تقریہ میں کہا :- در ایل پنجاب اور خاص کر اہل لاہور کو ان حالات کا اچھی طرح علم ہے جن میں فوج کو شہری حکام کی مدد کے لیے آنا پڑا۔جبکہ ہر طرف بدامنی کے بادل چھائے ہوئے تھے۔ریلیوں کی پڑیاں اکھاڑے جانے ٹیلیفون اور ٹیلی گراف کے تار کاٹے جانے اور عام ٹریفک میں مداخلت کیے جانے کی خبریں برابر آرہی تھیں۔لوٹ مار اور قتل و غارت کا بازار گرم ہو گیا۔عرض کہ 14 مارچ کی اس صبح کو لاہور میں کسی بھی شہری کی جان ومال کو محفوظ نہیں سمجھا جا سکتا تھا۔چند خود غرض انسانوں نے اپنے مفاد کے لیے جھوٹی باتوں سے کام لے کر اور مذہب کی آڑ لیتے ہوئے نادان عوام کے جذبات کو پاگل پن کی حد تک ابھار دیا تھا۔انہوں نے اپنی تحریک کو بظاہر مذہب کا رنگ لہ تلمت اور دسمبر ۱۹۵۳ و م ا ر اس پر چھہ میں مارشل لاء کے نفاذ کی تاریخ نہ مارچ چھپی تھی جو غلط ہے)