تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 399
ہو گیا۔پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔کیونکہ میری دی ہیں اوامر بھی ہیں اور نہی بھی۔مثلاً یہ الہام قل للمومنين يغضوا من أبصار هـــم ريحفظوا فروجهم ذلك ازكى لهم - یہ الہام براہین احمدیہ میں درج ہے۔اور اس میں امر بھی اور نہی بھی۔اور اس پر تئیس برس کی مدت بھی گزر گئی۔اور ایسا ہی ابتک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نبی بھی۔اور اگر کہو کہ شریعت سے وہ شریعت مراد ہے جس میں نئے احکام ہوں تو یہ باطل ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان هذا يعني KNKOLANAGE الاولى - صحف إبراهيم وموسى یعنی قرآنی تعلیم توریت میں بھی وجود ہے۔اور اگر یہ کہو کہ شریعت وہ ہے جس میں باستیفاء امرا ور ر نہی کا ذکر ہو۔تو یہ بھی باطل ہے کیونکہ اگر توریت یا قرآن شریف میں باستیفاء احکام شریعت کا ذکر ہوتا تو پھر اجتہاد کی گنجائش نہ رہتی۔عرض یہ سب خیالات فضول اور کوتاہ اندیشیاں ہیں ہمارا ایمان ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں اور قرآن ربانی کتابوں کا خاتم ہے تاہم خدا تعالیٰ نے اپنے نفس پر حرام نہیں کیا کہ تجدید کے طور پر کسی اور مامور کے ذریعے سے یہ احکام صادر کرے کہ جھوٹ نہ بولو۔جھوٹی گواہی نہ دوزنا مذ کر دی خون نہ کر داور ظاہر ہے کہ ایسا کر نا شریعت ہے جو مسیح موعود کا بھی کام ہے۔پھر وہ ولیل تمہاری کیسی گاڈ خورد ہو گئی۔کہ اگر کوئی شریعت لا دے اور مفتری ہو تو تیس برس تک زندہ نہیں رہ سکتا چونکہ میری تعلیم میں امر بھی اور نہی بھی اور شریعت کے ضروری احکام کی تجدید ہے۔اس لیے خدا تعالیٰ نے میری تعلیم کو اور اس وحی کو جو میرے پر ہوتی ہے فلک یعنی کشتی کے نام سے موسوم کیا ہے جیسا کہ ایک الہام کی عبادت ہے واصنع الفلك با عيننا و دينا۔ان الذين يبايعونك انما يبايعون الله يد الله فوق اید هم۔یعنی اس تعلیم اور تجدید کی کشتی کو ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری دحی سے بنا۔جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ خدا سے بیعت کرتے ہیں۔یہ خدا کا ہاتھ ہے جو ان کے ہاتھوں پر ہے۔اب دیکھو خدا نے میری دی اور تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں