تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 229 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 229

۲۲۷ کی وجہ سے افریقہ کے غیر مسلم عناصر پر یہ اثر ہے کہ پاکستان کے عوام میں مذہبی آزادی نہیں ہے اور جبر و اکراہ سے کام لیا جاتا ہے۔ان کا یہ بھی خیال ہے کہ پاکستان میں باہمی اختلافات اسقدر بڑھ گئے کہ انہیں مضبوطی سے دبانے کی ضرورت ہے۔یہ ملک کی بدقسمتی ہے کہ چند فتنہ پر دانہ لوگوں کی وجہ سے ہمارا محبوب وطن بدنام ہو گیا ہے یقیناً یہ چند لوگوں کا ذاتی فعل ہے اس سے پاکستانی حکومت پر الزام لگا نا ظلم ہوگا۔سرحد کے وزیر اعلی خان عبدالقیوم خان صاحب نے حالیہ سرحد اسمبلی کے اجلاس میں ایک بار پھر اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ صوبہ کے امن کو ہر قیمت پر بر قرار رکھیں گے۔وزیر اعلیٰ نے مسلم لیگی نمبروں سے یہ اپیل بھی کی ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں جا کہ لوگوں کو سمجھائیں کہ مذہب کی آلٹر میں خلاف اسلام حرکات کا ارتکاب کرنے والے پاکستان کے دشمن ہیں۔آج کی ڈاک میں احباب جماعت نے گزشتہ ہنگامہ کے سلسلہ میں کئی ایمان افروز واقعات کی اطلاع دی ہے جن کو پڑھ کہ خدا تعالیٰ کی نصرت کا نہ ندہ یقین حاصل ہوتا ہے۔مثلا ضلع شیخوپورہ کے احمدی دوست لکھتے ہیں کہ ایک جگہ چند تنہا اور بے کس احمدیوں پر بے حد سختی کی گئی اور ان کو محاصرہ میں لے لیا گیا۔ایک احمدی نے کہا کہ آپ لوگ جو کچھ کرنا چاہتے ہیں کر گزریں احمدیت تو مجھ سے نہیں چھوٹ سکتی۔احمدی - وست یہ الفاظ کتنے ہی پائے تھے کہ وہاں پولیس پہنچے گئی حالانکہ یہ جگہ متھانہ سے ۱۲ میل کے فاصلہ پر ہے۔بعض دوسرے مقامات پر احمدیوں کو بچانے کے لیے غیر احمدی مشرفا حفاظت کے لیے آگئے اور شرپسند عناصر کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا چنانچہ ایک احمدی خاتون نے لکھا ہے کہ وہ اپنے مکان پر اپنے بچوں سمیت رہتی تھیں کہ تین دفعہ مکان پر حملہ کرنے کی تیاری کی گئی مگر انہیں خدا نے بتایا کہ وہ محفوظ رہیں گی چنانچہ جب آخری بار جلوس آیا تو محلہ کے تشریف لوگ از خود اس خیال سے مقابلہ کے لیے آگے آگئے کہ ایک عورت کو مکان سے نکلوا دینا ایک مسلمان کی شرافت سے بعید ہے۔۔اسی طرح ایک احمد می دوکاندار جمعہ پڑھنے کے لیے گئے ہوئے تھے کہ اس اثناء میں ہجوم نے دکان پر دھاوا بول دیا مگر سا تھے ہی بعض شریعت غیر احمدی دوکاندار تھے انہوں نے ہجوم کا مقابلہ کیا