تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page vi
بسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنَصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ وعَلَى عَبْدِهِ المسيح الموعود ۱۵ اریخ احمدیت کی پند تھیں جلد اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی دی ہوئی توفیق سے تاریخ احمدیت کی پندرھویں جلد طبع ہو کر احباب کے ہاتھوں میں پہنچ رہی ہے نیٹی جلد کو پیش کرتے ہوئے دل اللہ تعالیٰ کی حمد سے لبریز ہے کہ تاریخ احمدیت کی تدوین و اشاعت کے بارے میں جو ذمہ داری سید نا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے ادارۃ المصنفین پر ڈالی تھی اس کو ادا کرتے ہوئے ہم ایک قدم اور آگے بڑھ رہے ہیں۔تاریخ احمدیت کی پہلی جلد دسمبر ۱۹۵۷ء میں، دوسری جلد دسمبر ۱۹۵۸ء میں اور تیسری جلد دسمبر ۱۹۶۲ء میں شائع ہوئی۔اس وقت خیال یہ تھا کہ خلافتِ اولیٰ کے دور کی تاریخ ایک جلد میں اور خلافت ثانیہ کے دور کی تاریخ دو جلدوں میں کمی ہو جائے گی اور تاریخ کی تدوین کا کام ختم ہوجائے گا اور ہم اس بارگاں سے سبکدوش ہو جائیں گے جو سید نا حضرت خلیفہ سیح الثانی مصلح الموعود نے ہمارے کمزور کندھوں پرڈالا تھا لیکن معرض و بو میں وہی آتا ہے جو اللہ تعالیٰ کا منشاء ہوتا ہے انسان کے اندازے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔خلافت ثانیہ کے واقعات پر مشتمل جب دو جلدیں طبع ہوئیں تو ان میں صرف ۱۹۳۱ ء تک کے واقعات ہی ختم ہو سکے اور ہمارے انداز سے درست ثابت نہ ہوئے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے تدوین تاریخ کا کام ہوتا رہا اور مز ید جلدیں شائع ہوتی چلی گئیں۔اب پندرھویں عبد شائع ہو رہی ہے۔اس میں جلسہ سالانہ ۱۹۵۱ء سے لیکر مارچ ۱۹۵۳ء تک کے واقعات کا ذکر آیا ہے۔اللہ تعالیٰ ہی کو صحیح علم ہے کہ خلافت ثانیہ کے دور کی تاریخ کو مکمل کرنے میں مزید کتنی جلیوں جو کار ہوں گی کیونکہ واقعاتی تذکرہ کے بعد سید نا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی سیرت پر کچھ لکھنا بھی ضروری ہوگا اور اس کے بعد پھر مخلافت ثالثہ کے دور کے واقعات شروع ہوں گے۔اللہ تعالیٰ سے عاجزانہ دعا ہے کہ جب اُس نے محض اپنے فضل سے پندرہ