تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 514
ہمراہ لائیے گا۔والسلام وہ بھی ضائع ہوگئی ہے میکرم یا بو عبد الغفار صاحب اللہ کی سیکرٹری جماعت احمدیہ حیدر آبادی فوٹو اسپیڈ کمپنی حیدرآباد سندھ کے پاس بھی ہے یہ دعوت نامہ صرف ۵۰۰ کی تعداد میں طبع کرایا ان کے بھائی مکرم نثار احمد صاحب کے پاس غالباً یہ گیا تھا کیونکہ ہال میں اسی قدر مشکل گنجائش تھی مگر مل سکیں گی جنہوں نے یہ تصاویر لی تھیں۔شائقین و سامعین کا اتنا اشتیاق و اصرار ہوا کہ ۲۵ تاریخ پر روز شکل حضور سے مراد کی شہر کارڈ تقسیم کرنے کے بعد جس کو کارڈ بوجہ واقفیت حیدر آباد آ آکر دن بھر ملاقات کرتے رہے۔دیا گیا اس کی سفارش پر اسی کے کارڈ پر دو دو تین مکرم چوہدری عبداللہ خان صاحب امیر حاجات تین بلکہ پچار چار کے بھی نام مجھے درج کرنا پڑے۔اور کراچی نے کراچی سے کافی تعداد میں موٹر کاروں کے ہال میں تنگی کی وجہ سے اکثر لوگوں کو جلسہ میں تقریر ذریعہ احباب جماعت کو حیدر آباد بھیجا اور خود بھی لاؤڈ سپیکر کے ذریعہ باہر کھڑے ہو کر سننا پڑی۔تشریف لائے ریکس نے ان سے پوچھا کہ حیدرآباد یکی دعوتی کارڈ دیکھ دیکھ کر لوگوں کو اندر جانے کی کے اس جلسہ کے لئے صدر کا آپ نے کیا انتظام کیا اجازت دیتا تو پیره داران کو داخل ہونے دیتے تھے ہے ؟ تو انہوں نے معذرت کی اور کہا کہ میں اب ۲۲ مارچ بروز سوموار حضور روشن بجے شب یہاں کوشش کرتا ہوں چنانچہ ہم دونوں مکریم بذریعہ ٹرین ناصر آباد سے میر پور خاص کے راستے جناب ایم۔اے حافظ صاحب بار ایٹ لاء ہیرو آباد حیدر آباد تشریف فرما ہوئے۔جماعت احمدیہ حیدر آباد کے پاس پہنچے۔انہوں نے اس جلسہ کی صدارت کو نے حضور کا استقبال کیا اور کاروں کے ذریعہ حضور اپنے لئے باعث فخر سمجھا۔وہ مکرم چوہدری صاحب مع عمله انسپکشن بنگلہ نزد سرکٹ ہاؤس حیدر آباد کے واقف اور دوست تھے اور آنے کا وعدہ کیا میں تشریف لے گئے جہاں رات کو قیام فرمایا۔بڑی خوشی کا اظہار کیا۔۲۵ مارچ کی صبح کو مکرم چوہدری محمد سعید دستات وقت مقررہ سے قبل ہی ہال کھچا کھچ بھر گیا جس کے اپنے مکان واقع ہیرہ آباد میں حضور کو دعوت میں انتظامی لحاظ سے احمدی نصف کے قریب تھے ناشتہ دی۔اس موقع پر لی گئی ایک تصویر میرے باہر بھی دعوت نامہ والے صحن میں کھڑے تھے۔پاس تھی جو اب ہنگاموں میں ضائع ہو گئی ہے۔حضور وقت مقررہ پر اہم بچے بذریعہ کا ر ہال میں اسٹیشن پر سے اترنے کے وقت کی بھی ایک تصویر اتنی تشریف لائے مکرم جناب ایم۔اسے حافظ صاحب