تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 424 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 424

سلام امام کو الف ربوہ اور اطفال الاحمدیہ اس کے مستقل نیچر قرار پائے۔اس ابتدائی دور میں پہلے سال سالم خالد کو جو قلمی معاونین بیشتر آئے ان میں ملک سیف الرحمن صاحب پرنسپل جامعہ احمدیہ مفتی مسلسل احمدیه مولانا ابو العطاء صاحب جالندھری، جناب حسن محمد خان صاحب عادت نائب وكيل التبشير، مولوی نور الحق صاحب اور فاضل (مبلغ امریکہ بھی شامل تھے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے اس کے اجداد پر حسب ذیل پیغام سپرد قلم فرمایا :- بکوشید اسے جوانان تا به دین قوت شود پیدا بهار و رونق اندر روضه ملت شود پیدا نه مجھے مولوی غلام باری صاحب سیف معتمد مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ ربوہ نے اطلاع دی ہے کہ انکی مجلس مرکز یہ کے زیر انتظام ایک ماہواری رسالہ خالد نامی بھاری ہو رہا ہے اور تکلیف صاحب نے جنہین خالد کے نام کے ساتھ ایک اہم تاریخی جوڑ حا صل ہے مجھ سے درخواست کی ہے کہ میں بھی اس رسالہ کے پہلے نمبر کے لئے کوئی مختصر سا پیغام لکھ کر دوں جو جماعت کے نوجوانوں کی ہمتوں کو بڑھانے والا ہو اور ان میں کام کی روح پھونکنے والا ہو سو مجھے اس پیغام کے لئے سب سے زیادہ موزوں اور مناسب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وہ فارسی شعر نظر آیا ہے جو میرے اس نوٹ کا عنوان ہے اور میں کا اُردو زبان میں سلیس اور آزاد ترجمہ یہ ہے کہ اسے احمدیت کے نو جوانو ! دین کے رستہ میں اپنی کوششوں اپنی جد و جہد کو اس اخلاص اور اس ذوق و شوق اور اس جذبہ قربانی کے ساتھ بھاری رکھو کہ تمہاری اس مجاہدانہ مساعی کے نتیجہ میں دین کو غیر معمولی مضبو ملی حاصل ہو جائے اور اسلام کا باغ و مرغزار پھر دوبارہ ایک نئی رونق و بہار کے ساتھ مخالفوں کی آنکھوں کو خیرہ کرنے لگے ہیں یہی وہ مقصد ہوتی ہے جو ہمارے نو جوانوں کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھنا چاہیے۔فاروق ہوں یا خالہ اور فلم ہو یا سیف سب اپنے اپنے میدان میں اور اپنے اپنے وقت پر اسلام اور صداقت کے خادم ہیں۔صرف مومن کی نیت پاک صاف ہونی چاہئیے اور اس کے قلب میں سیمابی ولولہ پھر اس کے آگے رستہ بالکل صاف ہے۔کتب الله لأغلب أنا وَرُسُلِى لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ الْعَظِيمِ) - یہ وقت خاص خدمت کا ہے کیونکہ احترام کی مخالفت نے جماعت کے لئے تبلیغ کا نہ استہ اس طرح بے آئینہ کمالات اسلام سرورق ص مطبوعہ ۱۳ ۱۸۹ء کے المجاولہ رکوع ۳