تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 263 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 263

۲۶۰ اس کی وضاحت کرتے ہوئے آپ نے فرمایا:۔ہماری جماعت بین الاقوامی طور پر ترقی پذیر جماعت ہے اور تبلیغی کاموں کی وجہ سے ہم اسلام اور مسلمانوں کے لئے کئی شاندار کام سر انجام دیتے ہیں۔اگر میں مسلمانوں سے علیحدہ ایک اقلیت قرار دے دیا جائے تو ممالک بیرون میں ہمارے کاموں میں روک پیدا ہوگی اور اسے مجموعی طور پر ایک مسلم قوم کی کوشش نہیں سمجھا جائے گا بلکہ یہ ایک علیحدہ مذہبی فرقہ کا کام سمجھا جائے گا اور اس کے ساتھ ہی احمدیوں اور دیگر مسلمانوں کے درمیان ایک ناقابل عبور خلیج بھی پیدا ہو جائے گی اس پر نہایت ذہین لیڈر نے یہ سوال کیا کہ پھر مجوزہ احمدی اقلیت کے لئے کونسی حدود مقرر کی جائیں گی ؟ ہیئت حاکمہ نے اگر جماعت کو اقلیت قرار دیا تو میں یہ حکم جاری کرنے میں کوئی پس و پیش نہیں کروں گا کہ ہم اپنے ساتھ احمدی کا نام ترک کر دیں اور صرف مسلم کہلائیں۔آپ نے فرمایا کہ ہماری مذہبی کتب میں لفظ احمدی ہمارے لئے قطعی (یا لازمی نہیں۔یہ نام بانی سلسلہ نے اپنے معتقدین کو مردم شماری کے لئے اپنی زندگی میں صرف امتیاز کے لئے استعمال کرنے کا ارشاد فرمایا تھا۔فرض کریں کہ حکومت آپ کی انجمن کو سیاسی جماعت قرار دے کر غیر قانونی قرار دے دیتی ہے اس وقت آپ کا رویہ کیا ہوگا ؟ تو آپ نے فرمایا کہ میں انجمن کا نام تبدیل کر دوں گا لیکن حکومت کے ساتھ تصادم نہیں ہونے دوں گا۔اسلامی مملکت پاکستان میں آپ سے دریافت کیا گیا کہ فرقہ وارانہ فسادات کی صورت میں بھی آپ مکمل مذہبی آزادی کی حمایت کریں گے ؟ تو آپ نے جواب دیا کہ ایک اسلامی ریاست میں مکمل میں آزادی ہوتی ہے۔اسلام غیر مسلموں سے بھی امید کرتا ہے کہ وہ اپنے مذہبی اصولوں پر عمل کہیں گے۔آپ نے پھر فرمایا کہ مجھے یقین ہے کہ موجودہ احمدیہ ایکی میشوں میں ہندوستان کا مخفی ہاتھ کام کر رہا ہے۔ہمارے پاس اس کا حمتی نبوت ہے جسے وقت آنے پر متعلقہ حکام کے سامنے پیش کرنے کے لئے ہم تیار ہوں گے۔