تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 193
IMA حدیث اور سنت کے خلاف جاتے ہیں حالانکہ آپ حدیث و سنت سے اپنے دعوی کے ثبوت میں دلائل دیتے تھے۔پھر آپ حنفیوں میں پیدا ہوئے اس طرح آپ ان کے عقیدوں سے واقف تھے پھر آپ قرآن کریم سے دلائل دیتے تھے۔ان دنوں مولوی محمد حسین صاحب بڑے عالم سمجھے جاتے تھے وہ اعتراض کرتے وقت کہتے تھے کہ قرآن میں یہ لکھا ہے حدیث میں یہ لکھا ہے سنت رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام قرآن و حدیث سے ہی ان اعتراضات کے جواب دیتے تھے اور فرماتے قرآن میں یہ لکھا ہے حدیث میں یہ لکھا ہے۔حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفتہ اسیح اول رضی اللہ عنہ ایک دفعہ اتفاق سے قادیان آئے اور کسی کام کے لئے لاہور ٹھر گئے۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی لاہور آئے ہوئے تھے انہوں نے خیال کیا کہ مولوی صاحب حضرت مسیح موعود علی الصلوۃ والسلام کے مقرب ہیں ان سے بحث مباحثہ ہو جائے چنانچہ مولوی میرحسین منا نے اشتہار بازی شروع کر دی۔حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اسی اول رضی اللہ عنہ کی دو ماہ کی رخصت تھی اور وہ لاہور میں ہی ختم ہوگئی مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے کہا بتاؤ حضرت عیلی علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں یا زندہ ہیں اور وہ حیات میں کے بارہ میں احادیث سے دلائل دیتے لیکن حضرت خلیفہ اسے اول ان کا قرآن کریم سے رد کر دیتے اور قرآن کریم سے وفات مسیح ثابت کرتے۔مولوی محمد حسین صاحب قرآن کریم کی طرف نہیں آتے تھے اور وہ چاہتے تھے کہ حضرت خلیفہ ایسیح اول کو بھی قرآن کریم سے ہٹا کر احادیث کی طرف لے آئیں۔آنٹر حضرت خلیفہ السیح اول نے اس کی بات کو جھوٹا کرنے کے لئے کہا کہ جو بخاری کہے وہ میں مان لوں گا۔ایک دوست نظام الدین نامی تھے انہیں حج کرنے کا بڑا شوق تھا انہوں نے دس ا حج کئے تھے وہ بمبئی تک پیدل جاتے اور آگے جہاز کے ذریعہ سفر کرتے انہوں نے براہین احمدیہ پڑھی ہوئی تھی اور انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی دونوں سے عشق تھا جب یہ لوگ شور مچاتے کہ مرزا صاحب کہتے ہیں کہ قرآن کریم کی رو سے عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں تو یہ بات ان کی سمجھ میں نہ آتی تھی کہ مرزا صاحب قرآن و حدیث کے بلند پایہ عالم ہو کہ اتنی بڑی غلطی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ایک دفعہ وہ حج کے لئے گئے جب واپس آئے تو کسی شخص نے ان سے اس بات کا ذکر کر دیا کہ مرزا صا حب نے یہ کہا ہے کہ عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں اور یہ امر قرآن کریم