تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 134 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 134

۱۳۳ غالب آسکتے ہیں تو تبلیغ کے ذریعہ ہی مگر افسوس مسلمان اس چیز کو بھول گئے ہیں جو اُن کے غلبہ کا ایک ہی ذریعہ ہے۔یہ تقبل ہے جو مرزا صاحب نے پیش کیا ہے اور لیکن یقین رکھتا ہوں کہ یہی وہ حربہ ہے جس سے اسلام اس وقت ساری دنیا میں غالب آ سکتا ہے۔لے کوئٹہ کے غیر متعصب اور متین غیر احمدی طبقہ نے یہ پر معارف اور بد تل لیکچر بہت پسند کیا اور تسلیم کیا کہ امام جماعت احمدیہ نے اپنی جماعت کا موقف نہایت خوش اسلوبی سے صحیح ثابت کر دکھایا ہے چنانچہ شیخ کریم بخش صاحبث نائب امیر جماعت احمدیہ کو میٹر نے حضرت خلیفہ المسیح الثانی المصلح الموعود کی خدمت میں لکھا کہ :۔حضور کی کل کی تقریرہ سے پبلک پر بہت اچھا اثر ہوا ہے اور میں نے کئی غیر احمدیوں سے سنا ہے کہ آج ہمیں احمدیت کے متعلق پورا علم ہوا ہے۔ہمارے ایک غیر احمدی مہمان شیخ عبدالرحمن صاحب نے بھی جلسہ ہیں کہ دیا تھا کہ حضرت صاحب بہت ذہین اور عالم بزرگ ہیں اور ان پر فضل خدا بہت اچھا اثر ہوا ہے۔لوگوں نے بہت پیپسی سے حضور کے لیکچر کو سُنا حالانکہ مجلس میں بہت سے کر شیعہ سنی اور اہل حدیث موجود تھے۔بندہ کا تو یہ خیال ہے کہ احمدیت کے متعلق کوئٹہ میں پہلا موثر لیکچر ہے جو حضور نے فرمایا اور عام پبلک میں بخوبی مقبول عام ہوا سے اسی ضمن میں دوبین غیر از جماعت مسترزین کے تاثرات ملاحظہ ہوں :- 1۔کیپٹن محمد اظہر حسن انصاری صاحب :- نہایت بصیرت افروز لیکچر تھا۔مجھے ان لوگوں پر جو دوران لیکچر میں اٹھا رہے تھے اگر وہ نماز عصر کے لئے اُٹھے تھے، سخت غصہ آرہا تھا لیکن اس سے بہت محظوظ ہوا۔لیفٹیننٹ سید احمد شعاع زیدی (فرید آبادی ) :- اس لیکچر کا خوب لطف آیا " ۳ - جمعدار محمد ہاشم صاحب :- شرافت کا تقاضا ہے کہ خواہ ہم انکار کریں صداقت صداقت ہی ہے۔MESS میں جاگ گئی ایک ن الملخص الفضل لاہور و ظوره ۱۳۲۹ صد تا صثہ سے ان دنوں میاں بشیر احمد صاحب پاسپورٹ آفیسر امیر جماعت کے فرائض انجام دے رہے تھے : سے مکتوب کرده ۲ ظهور ۳۲۲۹ :