تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 20 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 20

۱۹ فصل دوم افتتاح ربوہ کے بعد نئی بستی کی آبادی تعمیر کے ابتدائی انتظامات خلیفة الرسول حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اگر عراق میں کوفہ، بصرہ ، موصل اور مصر میں فسطا جیسے بڑے شہر بسائے تو سیدنا حضرت فضل عمر نے اپنے عہد خلافت میں سندیہ میں مختلف گاؤں آباد کرنے کے علاوہ اپنے دست مبارک سے ۲۰ تبوک استمبر ۱۳۲ رش کو جماعت احمدیہ کے نئے عالمی مرکز ریوں کی بنیاد رکھی اور حوادث کی آندھیوں اور مخالفت کے طوفانوں میں سے گزرتے ہوئے اپنی نیم شی دعاؤں، حیرت انگیز ذہانت ، بے مثال مدبرانہ قابلیت ، صلاحیت اور انتہا درجہ کی مشقت و سبا نفشانی سے ایک ق و دق صحرا کو ایک بارونق شہر میں بدل ڈالا جس سے دنیا کی مذہبی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوا۔مرکز ارادہ کا قیام حضرت مصلح موعود کا ایک نہایت شاندار، عدیم النظیر اور زندہ و تابندہ کارنامہ ہے، نجو رستی دنیا تک مشہور عالم رہے گا۔لہذا ضروری ہے کہ واقعات میں اس کا سلسلہ وارہ تذکرہ کیا جائے تا اسی کی تدریجی ترقی کے مختلف مراحل و اور ان پر مفصل روشنی پڑسکے۔اس فصل میں ان ابتدائی انتظامات کا بیان مقصود ہے جو بستی کی بنیاد سے لیکر ہمیش کے آخر تک اس کی آبادی اور عارضی اور کچے مکانات کی تعمیر کے لئے عمل میں لائے گئے۔ربنہ میں مرکزی دفاتر کا اجراء ربوہ کی افتتاحی تقریب کا ذکر پچھلی جلد میں آچکا ہے۔افتتاح ربوہ کے بعد چودھری عبد السلام صاحب اختر ایم۔اسے منتظم اعلیٰ نے بابلو فضل دین صاحب اور سیر اور دیگر احباب کے مشورہ سے اس مقدس مقام کو جہاں حضرت امیر الموتين المصلح الموعود رضی اللہ عنہ نے پہلی نماز ادا فرمائی تھی مرکز قرار دے کر اس کے چاروں طرف خیمے اور چھولداریاں نصب کرا دیں صحن میں صدر انجین احمدیہ پاکستان اور تحریک جدید دونوں اداروں کے دفاتر نئے مرکز میں کمل ملہ حاشیہ صفحہ ۲۱ پر ملاحظہ ہو۔VUJ-12-